عالم اسلام
کو درپیش چیلنجز
از قلم: محمد اسلم بن محمد یاسین
مسلمانوں نے دنیا پر تقریبا بارہ سو
سال حکومت کی ہے ۔ مسلمانوں کی چار عظیم الشان خلافتیں مختلف ادوار میں سورج کی
طرح روشن رہی ہیں ۔ مسلم دور حکومت میں علم و ہنر کی ترقی کے ساتھ تمدن کے بھی کئی شاہکار سامنے آئے ہیں ۔ لیکن گزشتہ دو سو سال مسلمان عروج کی بجائے
زوال کی جانب گامزن ہیں ۔ کتاب و سنت سے انحراف ،خلافت کا خاتمہ ، ملی تشخص سے
محرومی ، اقدار و روایات سے محرومی ہمارا
مقدر بنی۔
عروج سے زوال کی کہانی کا اگر سبب
تلاش کیا جائے تو ایک ہی بات سمجھ میں آتی ہے ۔ اپنے نظریہ حیا ت سے محرومی اور
مغربی تہذیب کی پیروی ۔ مسلمانوں کا عروج اس بات میں پوشیدہ ہے کہ وہ کتاب و سنت
کو مضبوطی سے تھامیں اور دیگر نظریہ ہائے حیات کو ترک کردیں ۔
گزشتہ دو سال سے مسلم حکمران اسلام کو بحثیت نظام اپنی زندگیوں سے دیس
نکالا دے چکے ہیں ۔ جس کی بناء پر اللہ تعالی نے ان سے حکومت چھین لی ہے ۔ انہوں نے اسلام کو محض اپنی انفرادی زندگی کا
حصہ بنا لیا ہے ۔ اسلام کو محض نماز اور
روزے تک محدود کر دیا گیا ہے ۔ مسلمانوں کا یہی رویہ موجودہ عالم اسلام کا سب سے
بڑا چیلنج ہے ۔ مسلمانوں کی معیشت کیپیٹلزم
اور کیمونزم کے سپرد ہے ، ان کی سیاست جمہوریت کے بھینٹ چڑہا دی گئی ہے اور ان کی
تہذیب مغرب کی تہذیب کے رنگ میں رنگی جا چکی ہے ۔
دین اور دنیا کی تفریق کا یہ چیلنج عالم اسلام کےلیے تابوت میں
آخری کیل ثابت ہو رہا ہے۔ہم اپنا عقیدہ ، نظریہ اور اقدار و روایات کھو چکے ہیں ۔
مرور ایام سے ہم غیروں کی غلامی کی جانب گامزن ہیں ۔ اگر ہم بحثیت ملت دوبارہ اپنا
عروج چاہتے ہیں تو ہمیں اسلام کو بحثیت نظام اپنی زندگیوں میں نافذ کرنا ہو گا
۔زندگی کے تمام گوشوں میں اسلامی تعلیمات پر عمل کرنا ہو گا ۔ اللہ تعالی کا بھی
ہم سے یہی مطالبہ ہے :
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ
آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ
الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ
"اے لوگو!جو ایمان لائے جو اسلام
میں مکمل داخل جاؤ اور شیطان کے رستوں کی پیروی نہ کرو ، بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن
ہے "
ہمیں بھی چاہیے کہ اللہ تعالی کے اس
حکم کو سامنے رکھتے ہوئے ، اسلام کو بحثیت نظام
اپنی زندگیوں میں نافذ کریں ، تاکہ مسلم دنیا کو ان تمام چیلنجز سے نبر
آزما کیا جا سکے ۔
Comments
Post a Comment