Skip to main content

عالم اسلام کو درپیش چیلنجز 56

 

عالم اسلام  کو  درپیش چیلنجز


از قلم: محمد اسلم بن محمد یاسین 



            مسلمانوں نے دنیا پر تقریبا بارہ سو سال حکومت کی ہے ۔ مسلمانوں کی چار عظیم الشان خلافتیں مختلف ادوار میں سورج کی طرح روشن رہی ہیں ۔ مسلم دور حکومت میں علم و ہنر کی ترقی کے ساتھ  تمدن کے بھی کئی شاہکار سامنے آئے ہیں ۔  لیکن گزشتہ دو سو سال مسلمان عروج کی بجائے زوال کی جانب گامزن ہیں ۔ کتاب و سنت سے انحراف ،خلافت کا خاتمہ ، ملی تشخص سے محرومی ،   اقدار و روایات سے محرومی ہمارا مقدر بنی۔

            عروج سے زوال کی کہانی کا اگر سبب تلاش کیا جائے تو ایک ہی بات سمجھ میں آتی ہے ۔ اپنے نظریہ حیا ت سے محرومی اور مغربی تہذیب کی پیروی ۔ مسلمانوں کا عروج اس بات میں پوشیدہ ہے کہ وہ کتاب و سنت کو مضبوطی   سے تھامیں  اور دیگر نظریہ ہائے حیات کو ترک کردیں ۔

            گزشتہ دو سال سے مسلم  حکمران اسلام کو بحثیت نظام اپنی زندگیوں سے دیس نکالا دے چکے ہیں ۔ جس کی بناء پر اللہ تعالی نے ان سے حکومت چھین لی ہے ۔  انہوں نے اسلام کو محض اپنی انفرادی زندگی کا حصہ بنا لیا ہے ۔ اسلام کو محض نماز  اور روزے تک محدود کر دیا گیا ہے ۔ مسلمانوں کا یہی رویہ موجودہ عالم اسلام کا سب سے بڑا چیلنج ہے ۔  مسلمانوں کی معیشت کیپیٹلزم اور کیمونزم کے سپرد ہے ، ان کی سیاست جمہوریت کے بھینٹ چڑہا دی گئی ہے اور ان کی تہذیب مغرب کی تہذیب کے رنگ میں رنگی جا چکی ہے ۔

            دین اور دنیا کی  تفریق کا یہ چیلنج عالم اسلام کےلیے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو رہا ہے۔ہم اپنا عقیدہ ، نظریہ اور اقدار و روایات کھو چکے ہیں ۔ مرور ایام سے ہم غیروں کی غلامی کی جانب گامزن ہیں ۔ اگر ہم بحثیت ملت دوبارہ اپنا عروج چاہتے ہیں تو ہمیں اسلام کو بحثیت نظام اپنی زندگیوں میں نافذ کرنا ہو گا ۔زندگی کے تمام گوشوں میں اسلامی تعلیمات پر عمل کرنا ہو گا ۔ اللہ تعالی کا بھی ہم سے یہی مطالبہ ہے :

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ

            "اے لوگو!جو ایمان لائے جو اسلام میں مکمل داخل جاؤ اور شیطان کے رستوں کی پیروی نہ کرو ، بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے "

            ہمیں بھی چاہیے کہ اللہ تعالی کے اس حکم کو سامنے رکھتے ہوئے ، اسلام کو بحثیت نظام   اپنی زندگیوں میں نافذ کریں ، تاکہ مسلم دنیا کو ان تمام چیلنجز سے نبر آزما کیا جا سکے ۔

Comments

Popular posts from this blog

عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات 94

  عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات از قلم:                                                                                                                                                                                                                                            ...

تصوف اور اسلام 69

تصوف اور اسلام از قلم :حافظ معیز احمد                 تصوف مسلمانوں کے ہاں تزکیہ نفس کا ادارہ ہے ، جس کا آغاز دوسری صدی ہجری میں ہوا ۔ تصوف سے مراد  نفس کی اصلاح ، اپنے آپ کو رزائل سے بچانا  اور احسان کی طرف لے کر جانا ہے ۔ تصوف کی  یہ صورت بلکل جائز ہے ، اس میں خرابی والی کوئی بات نہیں  ۔ اس تصوف کو کئی علماء نے اختیار کیا ہے ۔  لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس تصوف میں انتہاء پسندی  بڑھتی گئی ، جس سے یہ تصوف خرافات کی آماجگاہ بن گیا ۔                 تصوف کے پہلے دور میں صوفی کتاب و سنت پہ چلنے والا اور اس کے احکامات کو ماننے والا ہوتا تھا ۔ جیسے جیسے تصوف میں خرافات بڑھی تو صوفی کتاب و سنت سے دور چلتے گئے ، حتی کہ موجودہ دور میں تو تصوف کی اصطلاح ایسے لوگوں پہ لاگو ہونے لگی ہے جنہیں کتاب و سنت کا سرے سے علم ہی نہ ہو۔ جو اپنی خرافات اور بناوٹی کرامات میں گم ہوں ۔ اگر کوئی صوفی کچھ خرافات سے ہٹ عبادت کرنے کی ک...

دین اسلام کا معاشی تصور 91

  دین اسلام کا معاشی تصور اسلام کوادیان عالم میں یہ خصوصی مقام حاصل ہے کہ یہ الہامی ادیان میں آخری کامل اور جامع دین ہے ۔اس میں دنیاوی اور روحانی اعمال کی تفریق کوختم کر کے معیشت اور اکل حلال کو عبادت کا درجہ دیا گیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اسلام کا نظام معیشت نہایت مضبوط بنیادوں پر استوار ہے یہی وجہ ہے کہ آج سامراجی اور سرمایہ داری نظام لڑکھڑا کر تباہی کے کنارے تک پہنچ چکا ہے اور خصوصا بینکاری عالمی طور پر کنگالی کا شکار ہورہی ہے ،اسلام کے معاشی اصولوں کے تصور پر قائم ادارے نہ صرف مستحکم ہیں بلکہ ان کی مانگ میں گزشتہ بیس سالوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔اگر چہ ان اداروں کے بہت سے امور ایسے ہیں جن میں شرعی اصولوں سے فی الواقع مطابقت کے لئے اصلاح کی ضرورت ہے مگر پھر بھی ان کے اثاثے دیگر اداروں کے مقابلہ میں نہ صرف اضافہ پذیر ہیں بلکہ محفوظ ترین شمار کئے جاتے ہیں ۔ اس عملی تجربہ کے نتیجہ میں یورپ اور امریکہ میں غیر مسلم بھی یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہور ہے ہیں کہ اسلامی معاشی ادارے خواہ وہ بینک ہوں ، تکافل کے دارے ہوں یا صارف کمپنیاں ،سماجی معاشی اداروں سے زیادہ متحکم اور منافع بخش ہیں...