Skip to main content

جمہوریت اور اسلام 60


جمہوریت  اور اسلام

از قلم: راحیل قمر



                                                                                     جمہوریت اس وقت دنیا کا سب سے مقبول ترین نظام حکومت ہے بلکہ آج کی تاریخ میں مختلف ریاستوں اور ممالک کے سفر انقلاب کو اگر ایک سطر میں بند کیا جائے تو وہ شخصی حکومت یعنی آمریت اور بادشاہت سے عوامی اقتدار یعنی جمہوریت کا سفر ہی ہے۔جمہوریت کو سادہ الفاظ میں عوامی حکومت سے تعبیر کیا جاتا ہے اور جمہوری معاشرے میں اس بات کا دعویٰ کیا جاتا ہے اقتدار کی اصل مالک عوام ہے۔

                                                                                     جمہوریت کی جائے ابتدا تو اگرچہ مغرب ہے لیکن جب یہ نظریہ اسلامی ممالک میں داخل ہوا تو جمہوریت کا ایک نیا ایڈیشن بھی سامنے آیا جسے اصطلاحی معنوں میں" اسلامی جمہوریت" کہا جاتا ہے۔ چنانچہ اس وقت دنیا کے بیشتر اسلامی ممالک میں اسلامی جمہوریت ہی رائج ہے جس میں کہ ایران اور پاکستان سر فہرست ہیں۔اسلامی معاشروں میں جمہوریت کی آمد کے ساتھ ہی جمہوریت کے اسلامی اور غیر اسلامی ہونے کی بحث کا بھی آغاز ہو گیا جو آج تک جاری وساری ہے۔

                                                                                     ہمارے ہاں جمہوری نظام کو چار بنیادی اور اصولی نکات کی بنیاد پر اسلام سے متصادم قرار دیا جاتا ہے۔ ان بنیادی نکات میں پہلا نکتہ یہ ہے کہ مغرب کے جمہوری نظام میں عوام کی حاکمیت کو تسلیم کیا جاتا ہے جبکہ خالص اسلامی نظام میں حاکمیت کا اختیار فقط اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ مخصوص ہے اور اس میں کسی دوئی کو اسلام ہر گز قبول نہیں کرتا، چنانچہ یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جس کی بنیاد پر جمہوریت کو اسلام مخالف نظام سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

                                                                                     مغربی طرز جمہوریت میں عوام کی حاکمیت سے مراد یہ ہے کہ جس بھی قانون کو عوام کی اکثریت کی تائید حاصل ہو جائے گی وہ اس ملک کا قانون قرار دیا جائے گا چاہے وہ تاریخی، معاشرتی، اخلاقی اور مذہبی روایت اور تعلیمات سے کتنا ہی متصادم کیوں نہ ہو، جبکہ اسلامی نظام میں ایسا کوئی بھی اختیار نہ کسی فرد کو اور نہ کسی جماعت کو حاصل ہے کہ وہ اپنے انفرادی یا اجتماعی فیصلے سے اللہ کے اٹل قوانین کو تبدیل کردے۔

 اللہ تعالی کا فرمان ہے :

إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ

"حکومت صرف اللہ تعالی کی ذات کی ہے "

                                                                                     جمہوریت اور اسلام میں دوسرا بنیادی فرق یہ ہے کہ ہمارے جمہوری نظام میں مخصوص افراد کے لیے ا ستثناء کا قانون موجود ہے جب کہ اسلام میں ایسی کسی استثنائی صورت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اسلام میں قانون کی عملداری کا اندازہ نبی اکرم ﷺ کے اس فرمان عالی شان سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ اگر محمدﷺ کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیا جاتا ۔اسلام کا نظام عدل و انصاف اور احتساب تو اتنا واضح اور کھرا ہے کہ لاکھوں مربع میل پر حکومت کرنے والے وقت کے خلیفہ سے بھرے مجمع میں محض چند درہم کی چادر کا سوال کیا جا رہا ہے اور سوال کرنے والا کوئی جج،قاضی یا تفتیشی افسر نہیں ہے بلکہ خلیفہ کی رعیت ہی کا ایک عام فرد ہے لیکن خلیفہ وقت بغیر کسی غصے اور غضب کے نہایت اطمینان سے اپنی صفائی بیان کر رہا ہے۔

                                                                                     اسلام اور جمہوریت کو باہم متضاد بنانے والا تیسرا نکتہ یہ ہے کہ ہمارے جمہوری نظام میں صدر ریاست کو یہ خصوصی اختیار حاصل ہے کہ وہ ملک کی اعلیٰ عدالتوں سے سزا پانے والے مجرم کو بغیر کسی وجہ کے معاف کر سکتا ہے چاہے وہ کسی کا قاتل ہی کیوں نہ ہو جب کہ اسلام میں معافی کا اختیار فقط ورثا ء کوحاصل ہے۔مندرجہ بالا نکات میں آخری نکتہ یہ ہے کہ جمہوریت میں افراد کی اکثریت کی بنیاد پر فیصلہ کیا جاتا ہے چنانچہ جمہوریت کے اس اصول کے تحت کوئی شخص کتنی ہی مبنی بر حقیقت بات کیوں نہ کر رہا ہو لیکن اگر اس کے پاس اکثریت نہیں ہے تو وہ اپنی تمام تر صداقت کے باوجود کامیاب نہیں ہو سکتا، جبکہ اس کے برعکس ایک دوسرا شخص جو ایک جھوٹا دعویٰ لے کر سامنے آتا ہے اور محض طاقت، دولت، عہدے اور برادری کی بنیاد پر عوام کو جبری طور پر اپنے ساتھ ملا لیتا ہے تو مروجہ جمہوری اصولوں کے تحت وہ شخص کامیاب قرار پائے گا۔ جمہوریت کے اس نقص پر تقریباً تمام اہل دانش نے تنقید کی ہے اور اقبال نے بھی اس حقیقت کو یوں بیان کیا کہ۔

                                                                                     جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں

                                                                                     بندوں کو گناِ کرتے ہیں تولا نہیں کرتے۔

                                                                                     یہ جمہوریت کی چند ایک خامیاں تھی جو واضح طور پر اسلام مخالف ہیں۔اس بات میں بھی کوئی دو رائے نہیں کہ جمہوریت کوئی ایسا نظام حکومت نہیں جو واضح طور پر اسلام کا آئینہ دار ہو ۔لیکن اگر ا س نظام میں کچھ اصلاحات کر لی جائیں تو بہتری کی توقعات کی جا سکتی ہیں ۔ Constitution کتاب و سنت ہو ۔ انتخاب افراد کے طریقے میں کچھ اصلاحات کی جائیں  اور انتخاب افراد میں اصلح کو اہمیت دی جائے ۔  ان اصلاحات کے ذریعے اگرچہ خلافت کی شکل میں کوئی مثالی شکل تو نہیں ہے لیکن بہتری کی کچھ توقعات رکھی جا سکتی ہیں ۔

Comments

Popular posts from this blog

عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات 94

  عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات از قلم:                                                                                                                                                                                                                                            ...

دین اسلام کا معاشی تصور 91

  دین اسلام کا معاشی تصور اسلام کوادیان عالم میں یہ خصوصی مقام حاصل ہے کہ یہ الہامی ادیان میں آخری کامل اور جامع دین ہے ۔اس میں دنیاوی اور روحانی اعمال کی تفریق کوختم کر کے معیشت اور اکل حلال کو عبادت کا درجہ دیا گیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اسلام کا نظام معیشت نہایت مضبوط بنیادوں پر استوار ہے یہی وجہ ہے کہ آج سامراجی اور سرمایہ داری نظام لڑکھڑا کر تباہی کے کنارے تک پہنچ چکا ہے اور خصوصا بینکاری عالمی طور پر کنگالی کا شکار ہورہی ہے ،اسلام کے معاشی اصولوں کے تصور پر قائم ادارے نہ صرف مستحکم ہیں بلکہ ان کی مانگ میں گزشتہ بیس سالوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔اگر چہ ان اداروں کے بہت سے امور ایسے ہیں جن میں شرعی اصولوں سے فی الواقع مطابقت کے لئے اصلاح کی ضرورت ہے مگر پھر بھی ان کے اثاثے دیگر اداروں کے مقابلہ میں نہ صرف اضافہ پذیر ہیں بلکہ محفوظ ترین شمار کئے جاتے ہیں ۔ اس عملی تجربہ کے نتیجہ میں یورپ اور امریکہ میں غیر مسلم بھی یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہور ہے ہیں کہ اسلامی معاشی ادارے خواہ وہ بینک ہوں ، تکافل کے دارے ہوں یا صارف کمپنیاں ،سماجی معاشی اداروں سے زیادہ متحکم اور منافع بخش ہیں...

تصوف اور اسلام 69

تصوف اور اسلام از قلم :حافظ معیز احمد                 تصوف مسلمانوں کے ہاں تزکیہ نفس کا ادارہ ہے ، جس کا آغاز دوسری صدی ہجری میں ہوا ۔ تصوف سے مراد  نفس کی اصلاح ، اپنے آپ کو رزائل سے بچانا  اور احسان کی طرف لے کر جانا ہے ۔ تصوف کی  یہ صورت بلکل جائز ہے ، اس میں خرابی والی کوئی بات نہیں  ۔ اس تصوف کو کئی علماء نے اختیار کیا ہے ۔  لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس تصوف میں انتہاء پسندی  بڑھتی گئی ، جس سے یہ تصوف خرافات کی آماجگاہ بن گیا ۔                 تصوف کے پہلے دور میں صوفی کتاب و سنت پہ چلنے والا اور اس کے احکامات کو ماننے والا ہوتا تھا ۔ جیسے جیسے تصوف میں خرافات بڑھی تو صوفی کتاب و سنت سے دور چلتے گئے ، حتی کہ موجودہ دور میں تو تصوف کی اصطلاح ایسے لوگوں پہ لاگو ہونے لگی ہے جنہیں کتاب و سنت کا سرے سے علم ہی نہ ہو۔ جو اپنی خرافات اور بناوٹی کرامات میں گم ہوں ۔ اگر کوئی صوفی کچھ خرافات سے ہٹ عبادت کرنے کی ک...