جمہوریت اور اسلام
از قلم: راحیل قمر
جمہوریت
اس وقت دنیا کا سب سے مقبول ترین نظام حکومت ہے بلکہ آج کی تاریخ میں مختلف ریاستوں
اور ممالک کے سفر انقلاب کو اگر ایک سطر میں بند کیا جائے تو وہ شخصی حکومت یعنی
آمریت اور بادشاہت سے عوامی اقتدار یعنی جمہوریت کا سفر ہی ہے۔جمہوریت کو سادہ
الفاظ میں عوامی حکومت سے تعبیر کیا جاتا ہے اور جمہوری معاشرے میں اس بات کا دعویٰ
کیا جاتا ہے اقتدار کی اصل مالک عوام ہے۔
جمہوریت
کی جائے ابتدا تو اگرچہ مغرب ہے لیکن جب یہ نظریہ اسلامی ممالک میں داخل ہوا تو
جمہوریت کا ایک نیا ایڈیشن بھی سامنے آیا جسے اصطلاحی معنوں میں" اسلامی
جمہوریت" کہا جاتا ہے۔ چنانچہ اس وقت دنیا کے بیشتر اسلامی ممالک میں اسلامی
جمہوریت ہی رائج ہے جس میں کہ ایران اور پاکستان سر فہرست ہیں۔اسلامی معاشروں میں
جمہوریت کی آمد کے ساتھ ہی جمہوریت کے اسلامی اور غیر اسلامی ہونے کی بحث کا بھی
آغاز ہو گیا جو آج تک جاری وساری ہے۔
ہمارے
ہاں جمہوری نظام کو چار بنیادی اور اصولی نکات کی بنیاد پر اسلام سے متصادم قرار دیا
جاتا ہے۔ ان بنیادی نکات میں پہلا نکتہ یہ ہے کہ مغرب کے جمہوری نظام میں عوام کی
حاکمیت کو تسلیم کیا جاتا ہے جبکہ خالص اسلامی نظام میں حاکمیت کا اختیار فقط اللہ
تعالیٰ کی ذات کے ساتھ مخصوص ہے اور اس میں کسی دوئی کو اسلام ہر گز قبول نہیں
کرتا، چنانچہ یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جس کی بنیاد پر جمہوریت کو اسلام مخالف نظام
سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
مغربی طرز جمہوریت میں عوام کی حاکمیت سے مراد یہ ہے کہ جس بھی قانون کو عوام کی اکثریت کی تائید حاصل ہو جائے گی وہ اس ملک کا قانون قرار دیا جائے گا چاہے وہ تاریخی، معاشرتی، اخلاقی اور مذہبی روایت اور تعلیمات سے کتنا ہی متصادم کیوں نہ ہو، جبکہ اسلامی نظام میں ایسا کوئی بھی اختیار نہ کسی فرد کو اور نہ کسی جماعت کو حاصل ہے کہ وہ اپنے انفرادی یا اجتماعی فیصلے سے اللہ کے اٹل قوانین کو تبدیل کردے۔
اللہ
تعالی کا فرمان ہے :
إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا
لِلَّهِ
"حکومت صرف اللہ تعالی کی ذات کی ہے
"
جمہوریت
اور اسلام میں دوسرا بنیادی فرق یہ ہے کہ ہمارے جمہوری نظام میں مخصوص افراد کے لیے
ا ستثناء کا قانون موجود ہے جب کہ اسلام میں ایسی کسی استثنائی صورت کی کوئی
گنجائش نہیں ہے۔ اسلام میں قانون کی عملداری کا اندازہ نبی اکرم ﷺ کے اس فرمان عالی
شان سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ اگر محمدﷺ کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو اس کا
بھی ہاتھ کاٹ دیا جاتا ۔اسلام کا نظام عدل و انصاف اور احتساب تو اتنا واضح اور
کھرا ہے کہ لاکھوں مربع میل پر حکومت کرنے والے وقت کے خلیفہ سے بھرے مجمع میں محض
چند درہم کی چادر کا سوال کیا جا رہا ہے اور سوال کرنے والا کوئی جج،قاضی یا تفتیشی
افسر نہیں ہے بلکہ خلیفہ کی رعیت ہی کا ایک عام فرد ہے لیکن خلیفہ وقت بغیر کسی
غصے اور غضب کے نہایت اطمینان سے اپنی صفائی بیان کر رہا ہے۔
اسلام
اور جمہوریت کو باہم متضاد بنانے والا تیسرا نکتہ یہ ہے کہ ہمارے جمہوری نظام میں
صدر ریاست کو یہ خصوصی اختیار حاصل ہے کہ وہ ملک کی اعلیٰ عدالتوں سے سزا پانے
والے مجرم کو بغیر کسی وجہ کے معاف کر سکتا ہے چاہے وہ کسی کا قاتل ہی کیوں نہ ہو
جب کہ اسلام میں معافی کا اختیار فقط ورثا ء کوحاصل ہے۔مندرجہ بالا نکات میں آخری
نکتہ یہ ہے کہ جمہوریت میں افراد کی اکثریت کی بنیاد پر فیصلہ کیا جاتا ہے چنانچہ
جمہوریت کے اس اصول کے تحت کوئی شخص کتنی ہی مبنی بر حقیقت بات کیوں نہ کر رہا ہو
لیکن اگر اس کے پاس اکثریت نہیں ہے تو وہ اپنی تمام تر صداقت کے باوجود کامیاب نہیں
ہو سکتا، جبکہ اس کے برعکس ایک دوسرا شخص جو ایک جھوٹا دعویٰ لے کر سامنے آتا ہے
اور محض طاقت، دولت، عہدے اور برادری کی بنیاد پر عوام کو جبری طور پر اپنے ساتھ
ملا لیتا ہے تو مروجہ جمہوری اصولوں کے تحت وہ شخص کامیاب قرار پائے گا۔ جمہوریت
کے اس نقص پر تقریباً تمام اہل دانش نے تنقید کی ہے اور اقبال نے بھی اس حقیقت کو یوں
بیان کیا کہ۔
جمہوریت
اک طرز حکومت ہے کہ جس میں
بندوں
کو گناِ کرتے ہیں تولا نہیں کرتے۔
یہ
جمہوریت کی چند ایک خامیاں تھی جو واضح طور پر اسلام مخالف ہیں۔اس بات میں بھی کوئی
دو رائے نہیں کہ جمہوریت کوئی ایسا نظام حکومت نہیں جو واضح طور پر اسلام کا آئینہ
دار ہو ۔لیکن اگر ا س نظام میں کچھ اصلاحات کر لی جائیں تو بہتری کی توقعات کی جا
سکتی ہیں ۔ Constitution
کتاب و سنت ہو ۔ انتخاب افراد کے طریقے میں کچھ اصلاحات کی جائیں اور انتخاب افراد میں اصلح کو اہمیت دی جائے
۔ ان اصلاحات کے ذریعے اگرچہ خلافت کی شکل
میں کوئی مثالی شکل تو نہیں ہے لیکن بہتری کی کچھ توقعات رکھی جا سکتی ہیں ۔
Comments
Post a Comment