Skip to main content

تحریری اور غیر تحریری آئین 61

 

تحریری اور غیر تحریری آئین


ازقلم: استاذ حافظ عبد الحنان کیلانی



                                                                                                 ہر شعبہ کی اپنی زبان ہوتی ہے قانونی زبان میں جب تحریری اور غیرتحریری آئین میں فرق کیا جائے تو اس وقت تین طرح کے فروق مراد ہوتے ہیں:

ہر وہ آئین جسے پارلیمنٹ پاس کرے وہ تحریری ہوتا ہے۔ جیسے امریکن قانون ہے۔  اس کے برعکس برطانوی قانون غیر تحریری ہے کیونکہ اس کی اساس رسوم و رواج اور روایات، میگنا کارٹا، ہیں۔

ہر وہ آئین جو دفعاتی شکل میں ہو وہ تحریری ہوتا ہے اور جو دفعاتی شکل میں نہ ہو وہ غیرتحریری ہوتا ہے۔  جیسے پاکستانی آئین کی 280 دفعات ہیں۔ ایسے ہی امریکن آئین کی دفعاتی شکل ہے جبکہ برطانوی آئین غیر دفعاتی شکل میں ہے۔

ہر وہ آئین جو یکجا ہو، ایک ہی جگہ جمع ہو اسے تحریری کہتے ہیں جیسے امریکن آئین ہے اور جو آئین ایک جگہ جمع نہ ہو وہ غیر تحریری ہوتا ہے۔ جیسے برطانوی آئین ہے۔ کیونکہ اس کی اساس رسوم رواجات وغیرہ ہیں۔

                                                                                     واضح رہے جو آئین غیر تحریری ہوتا ہے وہ لچک دار ہوتا ہے۔  اس میں تبدیلی ہوتی رہتی ہے جیسے برطانوی آئین ہے۔ اس کی  بنیاد رسوم و رواجات ہیں۔

قرآن و سنت :

                                                                                     درج بالا خصوصیات کے تناظر میں دیکھا جائے تو اسلامی آئین قرآن و سنت تحریری اور غیر تحریری ہے۔ یہ پارلیمنٹ کے ذریعہ پاس نہیں ہوا۔ یہ دفعاتی شکل میں نہیں۔ ان دو خصوصیات کے حوالے سے یہ غیر تحریری ہے البتہ یہ ایک جگہ جمع ہے اور اس میں تبدیلی نہیں ہوسکتی۔ اس لحاظ سے یہ تحریری ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات 94

  عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات از قلم:                                                                                                                                                                                                                                            ...

دین اسلام کا معاشی تصور 91

  دین اسلام کا معاشی تصور اسلام کوادیان عالم میں یہ خصوصی مقام حاصل ہے کہ یہ الہامی ادیان میں آخری کامل اور جامع دین ہے ۔اس میں دنیاوی اور روحانی اعمال کی تفریق کوختم کر کے معیشت اور اکل حلال کو عبادت کا درجہ دیا گیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اسلام کا نظام معیشت نہایت مضبوط بنیادوں پر استوار ہے یہی وجہ ہے کہ آج سامراجی اور سرمایہ داری نظام لڑکھڑا کر تباہی کے کنارے تک پہنچ چکا ہے اور خصوصا بینکاری عالمی طور پر کنگالی کا شکار ہورہی ہے ،اسلام کے معاشی اصولوں کے تصور پر قائم ادارے نہ صرف مستحکم ہیں بلکہ ان کی مانگ میں گزشتہ بیس سالوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔اگر چہ ان اداروں کے بہت سے امور ایسے ہیں جن میں شرعی اصولوں سے فی الواقع مطابقت کے لئے اصلاح کی ضرورت ہے مگر پھر بھی ان کے اثاثے دیگر اداروں کے مقابلہ میں نہ صرف اضافہ پذیر ہیں بلکہ محفوظ ترین شمار کئے جاتے ہیں ۔ اس عملی تجربہ کے نتیجہ میں یورپ اور امریکہ میں غیر مسلم بھی یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہور ہے ہیں کہ اسلامی معاشی ادارے خواہ وہ بینک ہوں ، تکافل کے دارے ہوں یا صارف کمپنیاں ،سماجی معاشی اداروں سے زیادہ متحکم اور منافع بخش ہیں...

تصوف اور اسلام 69

تصوف اور اسلام از قلم :حافظ معیز احمد                 تصوف مسلمانوں کے ہاں تزکیہ نفس کا ادارہ ہے ، جس کا آغاز دوسری صدی ہجری میں ہوا ۔ تصوف سے مراد  نفس کی اصلاح ، اپنے آپ کو رزائل سے بچانا  اور احسان کی طرف لے کر جانا ہے ۔ تصوف کی  یہ صورت بلکل جائز ہے ، اس میں خرابی والی کوئی بات نہیں  ۔ اس تصوف کو کئی علماء نے اختیار کیا ہے ۔  لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس تصوف میں انتہاء پسندی  بڑھتی گئی ، جس سے یہ تصوف خرافات کی آماجگاہ بن گیا ۔                 تصوف کے پہلے دور میں صوفی کتاب و سنت پہ چلنے والا اور اس کے احکامات کو ماننے والا ہوتا تھا ۔ جیسے جیسے تصوف میں خرافات بڑھی تو صوفی کتاب و سنت سے دور چلتے گئے ، حتی کہ موجودہ دور میں تو تصوف کی اصطلاح ایسے لوگوں پہ لاگو ہونے لگی ہے جنہیں کتاب و سنت کا سرے سے علم ہی نہ ہو۔ جو اپنی خرافات اور بناوٹی کرامات میں گم ہوں ۔ اگر کوئی صوفی کچھ خرافات سے ہٹ عبادت کرنے کی ک...