تعمیر سیرت میں
نماز کا کردار
بقلم:اویس
الرحمن
نماز
کے اہم کاموں اور فوائد میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ انسان کی سیرت کو اس خاص ڈھنگ
پر تیار کرتی ہے جو اسلامی زندگی بسر کرنے کے لیے ضروری ہے۔
دنیا میں ہر جگہ جیسا کام کسی فرد یا جماعت کو
کرنا ہوتا ہے اس لحاظ سے اس کی تربیت کی جاتی ہے۔ اسلام کا مقصد بھی ایسے فرد اور جماعت کی تیاری ہے جس
کا اولین مقصد نیکی کو قائم کرنا اور بدی کو مٹانا ہے۔ جیسے عقائد، عبادات،
رسومات، سیاست، عدالت، معیشت، صلح و جنگ غرض یہ کہ ہر شعبہ زندگی میں خدا کے قوانین
کی پابندی کرنی ہے۔ یہ عظیم کام اس وقت تک نہیں ہوسکتے جب تک انسان میں خدا کا
خوف، اس کی محبت اور خوشنودی کی خواہش پیدا نہ ہو اور جب تک آدمی یہ نہ جان لے کہ
اللہ تعالی کی ذات حاکم اعلی ہے اور ہر انسان اس کے سامنے جوابدہ ہے۔
ایک مسلمان کو یہ یقین ہونا چاہیے کہ اللہ تعالی
کی ذات اسے ہر جگہ اور ہر حال میں دیکھ رہی ہے، اس کی ہر حرکت سے باخبر ہے، اندھیرے
میں بھی اس کو دیکھتا ہے، تنہائی میں بھی اس کے ساتھ ہے اور اس کے دل میں جونیت
چھپی ہوئی ہے اس کو بھی وہ جانتا ہے۔ یہ یقین انسان کو اللہ عزوجل کے احکام کی
اطاعت اور اس کے قانون کی پیروی کے لیے تیار کرتا ہے۔ نماز کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ وہ اس یقین کو
بار بار انسان کے ذہن میں تازہ کرے۔
نماز شروع ہوتے ہی روح کی تربیت اور اسلامی سیرت
کی تعمیر کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ پھر ایک
ایک حرکت، ایک ایک فعل اور ایک ایک قول جو نماز سے متعلق ہے کچھ اس طور پر رکھا گیا
ہے کہ اس سے خود بخود انسان کی سیرت اسلام کے سانچے میں ڈھلتی جاتی ہے۔ اسی
لئے قرآن پاک میں آیا ہے کہ:
"اِنَّ الصّلوۃَ تَنہیٰ عَنِ الفَحشَاءِ
وَالمُنکَر"
بے شک نماز بُرے اور بے حیائی
کے کاموں سے روکتی ہے۔
(سورہ عنکبوت آیۃ 45)
"
اسی بناء پر نماز قدیم ترین زمانے سے انبیاء کی تعلیمات کا جز رہی ہے۔جتنے انبیاء
کرام اللہ تعالی کی طرف سے آئے ہیں ان سب کے شریعت میں نماز اولین رکن تھی۔
مسلمانوں میں جب کبھی زوال آیا نماز کے نظامِ تربیت ٹوٹنے کی وجہ سے ہی آیا، کیونکہ
اسلام کے طریقہ پر چلنے کے لئے اسلامی سیرت کا ہونا ضروری ہے اور اسلامی سیرت نماز
کے نظام تربیت سے ہی بنتی ہے، جب یہ نظام ٹوٹے گا تو سیرتیں بگڑ جائیں گے اور اس
کا لازمی نتیجہ زوال و انحطاط ہوگا۔
اللہ
تعالی ہمیں زندگی کے ہر شعبہ میں ہے اپنی شریعت کا تابع بنائے۔ (آمین)
Comments
Post a Comment