Skip to main content

تعمیر سیرت میں نماز کا کردار 63

 

تعمیر سیرت میں نماز کا کردار

بقلم:اویس الرحمن



                                                                                     نماز کے اہم کاموں اور فوائد میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ انسان کی سیرت کو اس خاص ڈھنگ پر تیار کرتی ہے جو اسلامی زندگی بسر کرنے کے لیے ضروری ہے۔

 

                                                                                      دنیا میں ہر جگہ جیسا کام کسی فرد یا جماعت کو کرنا ہوتا ہے اس لحاظ سے اس کی تربیت کی جاتی ہے۔ اسلام  کا مقصد بھی ایسے فرد اور جماعت کی تیاری ہے جس کا اولین مقصد نیکی کو قائم کرنا اور بدی کو مٹانا ہے۔ جیسے عقائد، عبادات، رسومات، سیاست، عدالت، معیشت، صلح و جنگ غرض یہ کہ ہر شعبہ زندگی میں خدا کے قوانین کی پابندی کرنی ہے۔ یہ عظیم کام اس وقت تک نہیں ہوسکتے جب تک انسان میں خدا کا خوف، اس کی محبت اور خوشنودی کی خواہش پیدا نہ ہو اور جب تک آدمی یہ نہ جان لے کہ اللہ تعالی کی ذات حاکم اعلی ہے اور ہر انسان اس کے سامنے جوابدہ ہے۔

                                                                                      ایک مسلمان کو یہ یقین ہونا چاہیے کہ اللہ تعالی کی ذات اسے ہر جگہ اور ہر حال میں دیکھ رہی ہے، اس کی ہر حرکت سے باخبر ہے، اندھیرے میں بھی اس کو دیکھتا ہے، تنہائی میں بھی اس کے ساتھ ہے اور اس کے دل میں جونیت چھپی ہوئی ہے اس کو بھی وہ جانتا ہے۔ یہ یقین انسان کو اللہ عزوجل کے احکام کی اطاعت اور اس کے قانون کی پیروی کے لیے تیار کرتا ہے۔  نماز کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ وہ اس یقین کو بار بار انسان کے ذہن میں تازہ کرے۔

 

                                                                                      نماز شروع ہوتے ہی روح کی تربیت اور اسلامی سیرت کی تعمیر کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ پھر  ایک ایک حرکت، ایک ایک فعل اور ایک ایک قول جو نماز سے متعلق ہے کچھ اس طور پر رکھا گیا ہے کہ اس سے خود بخود انسان کی سیرت اسلام کے سانچے میں ڈھلتی جاتی ہے۔ اسی لئے  قرآن پاک میں آیا ہے کہ:

"اِنَّ الصّلوۃَ تَنہیٰ عَنِ الفَحشَاءِ وَالمُنکَر"

بے شک نماز بُرے اور بے حیائی کے کاموں سے روکتی ہے۔

(سورہ عنکبوت آیۃ 45)

 

                                                                                     " اسی بناء پر نماز قدیم ترین زمانے سے انبیاء کی تعلیمات کا جز رہی ہے۔جتنے انبیاء کرام اللہ تعالی کی طرف سے آئے ہیں ان سب کے شریعت میں نماز اولین رکن تھی۔ مسلمانوں میں جب کبھی زوال آیا نماز کے نظامِ تربیت ٹوٹنے کی وجہ سے ہی آیا، کیونکہ اسلام کے طریقہ پر چلنے کے لئے اسلامی سیرت کا ہونا ضروری ہے اور اسلامی سیرت نماز کے نظام تربیت سے ہی بنتی ہے، جب یہ نظام ٹوٹے گا تو سیرتیں بگڑ جائیں گے اور اس کا لازمی نتیجہ زوال و انحطاط ہوگا۔

 

 اللہ تعالی ہمیں زندگی کے ہر شعبہ میں ہے اپنی شریعت کا تابع بنائے۔ (آمین)

Comments

Popular posts from this blog

عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات 94

  عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات از قلم:                                                                                                                                                                                                                                            ...

دین اسلام کا معاشی تصور 91

  دین اسلام کا معاشی تصور اسلام کوادیان عالم میں یہ خصوصی مقام حاصل ہے کہ یہ الہامی ادیان میں آخری کامل اور جامع دین ہے ۔اس میں دنیاوی اور روحانی اعمال کی تفریق کوختم کر کے معیشت اور اکل حلال کو عبادت کا درجہ دیا گیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اسلام کا نظام معیشت نہایت مضبوط بنیادوں پر استوار ہے یہی وجہ ہے کہ آج سامراجی اور سرمایہ داری نظام لڑکھڑا کر تباہی کے کنارے تک پہنچ چکا ہے اور خصوصا بینکاری عالمی طور پر کنگالی کا شکار ہورہی ہے ،اسلام کے معاشی اصولوں کے تصور پر قائم ادارے نہ صرف مستحکم ہیں بلکہ ان کی مانگ میں گزشتہ بیس سالوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔اگر چہ ان اداروں کے بہت سے امور ایسے ہیں جن میں شرعی اصولوں سے فی الواقع مطابقت کے لئے اصلاح کی ضرورت ہے مگر پھر بھی ان کے اثاثے دیگر اداروں کے مقابلہ میں نہ صرف اضافہ پذیر ہیں بلکہ محفوظ ترین شمار کئے جاتے ہیں ۔ اس عملی تجربہ کے نتیجہ میں یورپ اور امریکہ میں غیر مسلم بھی یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہور ہے ہیں کہ اسلامی معاشی ادارے خواہ وہ بینک ہوں ، تکافل کے دارے ہوں یا صارف کمپنیاں ،سماجی معاشی اداروں سے زیادہ متحکم اور منافع بخش ہیں...

تصوف اور اسلام 69

تصوف اور اسلام از قلم :حافظ معیز احمد                 تصوف مسلمانوں کے ہاں تزکیہ نفس کا ادارہ ہے ، جس کا آغاز دوسری صدی ہجری میں ہوا ۔ تصوف سے مراد  نفس کی اصلاح ، اپنے آپ کو رزائل سے بچانا  اور احسان کی طرف لے کر جانا ہے ۔ تصوف کی  یہ صورت بلکل جائز ہے ، اس میں خرابی والی کوئی بات نہیں  ۔ اس تصوف کو کئی علماء نے اختیار کیا ہے ۔  لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس تصوف میں انتہاء پسندی  بڑھتی گئی ، جس سے یہ تصوف خرافات کی آماجگاہ بن گیا ۔                 تصوف کے پہلے دور میں صوفی کتاب و سنت پہ چلنے والا اور اس کے احکامات کو ماننے والا ہوتا تھا ۔ جیسے جیسے تصوف میں خرافات بڑھی تو صوفی کتاب و سنت سے دور چلتے گئے ، حتی کہ موجودہ دور میں تو تصوف کی اصطلاح ایسے لوگوں پہ لاگو ہونے لگی ہے جنہیں کتاب و سنت کا سرے سے علم ہی نہ ہو۔ جو اپنی خرافات اور بناوٹی کرامات میں گم ہوں ۔ اگر کوئی صوفی کچھ خرافات سے ہٹ عبادت کرنے کی ک...