Skip to main content

مدارس دینیہ اور موجودہ دور کے تقاضے 70

 

مدارس دینیہ  اور موجودہ دور کے تقاضے

از قلم : بدر عکاشہ



                                                                                                                   مدارس دینیہ اسلام کاقلعہ ہیں ۔انفرادی اور اجتماعی زندگی کی راہنمائی ،معاشرے میں دین کی نشر و اشاعت ، فکر و عمل کی یکسوئی  اور تربیت یافتہ افراد کی تیار ی مدارس اسلامیہ کے ذریعے ہی ممکن ہے ۔ اسلامی شعائر کا تحفظ ، قرآن و سنت اور اسلامی روایات کا احیاء مدارس کے ذریعے ہی ممکن ہے ۔تمدنی ترقی  ، سائنس و ٹیکنالوجی ، طب اور ریاضی میں مدارس اپنا کلیدی کردار ادا کرتے آئے ہیں ۔  مدارس اسلامیہ ہر دور کے فتنوں کے آگے سیسہ پلائی دیوار بنے رہے ہیں ۔ اگر ماضی میں دیکھا جائے تو مدارس اسلامیہ مذکورہ اور اس کے علاوہ اپنی تمام ذمہ داریاں بحسن خوبی ادا کرتے آئے ہیں ۔لیکن اگر موجودہ دور میں دیکھا جائے تو کیا مدارس اسلامیہ اپنی تمام ذمہ داریاں حالات کے تقاضوں کے مطابق ادا کررہے ہیں ؟

                                                                                                                   ہم اپنے موجودہ حالات کا جائزہ لیں تو ہمیں یہ بات واضح طور پر نظر آتی ہے کہ موجودہ دور کے فتنے مکمل ہمہ جہتی  اور آب و تاب کے ساتھ چمک رہے ہیں ۔ کیا ابھی بھی مدارس اسلامیہ  کامیاب ہیں؟ موجودہ مدارس اسلامیہ اپنے افکار و نظریات ،  اپنی نصابی سرگرمیوں ، انداز تدریس اور انتظامی سسٹم  سمیت کئی جہات سے روایتی شمار کیے جاتے ہیں ۔   جب کہ موجودہ دور بلکل اس کے برعکس ہے ۔

                                                                                                                   سیکولرزم ، کیمونزم ، کیپیٹلزم  ، نیشنلزم اور الحاد جیسے نظریات دنیا پر غالب نظام تصور کیے جاتے ہیں اور پوری دنیا کو انہی کے مطابق چلایا جا رہا ہے ۔ لیکن ان کے تدارک کے لیے مدارس اسلامیہ کوئی خاطر خواہ کارنامہ ہائے سرانجام نہیں دے سکے ۔ مدارس اسلامیہ کا نصاب چند  فروعی و انفرادی مسائل پر مشتمل ہے ، جس میں اجتماعی مسائل اور موجودہ دور کے فتنوں کو یکسر نظر انداز کر دیا جاتا ہے ۔

                                                                                                                   یہ تفریق کو  سب سے پہلے بر صغیر میں انگریزوں نے پروان چڑہایا  ۔ سائنس ،ریاضی  ، طب اور دوسرے  کئی علوم کو کالجوں اور یونیورسٹیوں سے مربوط کر دیااور انہیں ڈگریوں سمیت سرکاری مراعات سے نوازا گیا ۔  جب کہ عربی و فارسی کو مدارس میں ہی رائج رہنے دیا ۔سیکولرزم کی بنیاد پر کی گئی یہ تقسیم سیکولر نظام تعلیم کی تشکیل کا سبب بنا ۔  اگر ہم اس سے پہلے کی صورت حال دیکھیں تو یہ تمام علوم مدارس میں پڑھائے جاتے تھے اور مسلمان ان علوم میں کئی ایک شاہکار متعارف کروا چکے تھے ۔  جس کی ایک مثال پیش خدمت ہے ۔

                                                                                                                   ہندوستان میں مسلمانوں کا نظام تعلیم یہ تھا کہ ایک ہی مدرسے میں پڑھنے والے تین ہم سبق حضرت مجدد الف ثانی، عالم اور بزرگ بنے ، محمد خان بادشاہ وقت کا وزیر اعظم بنا اور معماراحمد خان تاج محل کا معمار بنا۔ ۱۸۸۶ء میں انگریزوں نے رڑکی میں پہلا انجینئر نگ کالج بنایا، لیکن اس کالج کے بننے سے پہلے تاج محل، بادشاہی مسجد، شالا مار باغ اور ہندوستان بھر میں تعمیرات کے اعلیٰ ترین شاہکارتخلیق کرنے والے کسی انجینئرنگ کالج سے فارغ التحصیل نہیں تھے۔ ہڑپہ، موہنجودڑو، بابل، نینوا، روم، ایران، یونان، چین میں آخر فنون کہاں سے سیکھے جاتے تھے؟ اہرام مصر بنانے والے فن کاروں نے کسی انجینئرنگ یورنیورسٹی سے تعلیم حاصل نہیں کی تھی۔

                                                                                                                   نتیجتا ہم دیکھتے ہیں کہ فضلاء مدارس اجتماعیات کے شعبے میں راہنمائی تو درکنار  تفہیم سے بھی قاصر ہوتے ہیں ۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ مدارس اسلامیہ انفرادی و فروعی مسائل کے ساتھ اجتماعی اور ملی مسائل کو بھی شامل نصاب بنائیں ۔حالات کے تقاضوں کے مطابق جدید دور کے فتنوں کا سدباب کیا جائے  اور ان کے بلمقابل اسلام کو بحثیت نظام زندگی پیش کیا جائے ۔

Comments

Popular posts from this blog

عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات 94

  عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات از قلم:                                                                                                                                                                                                                                            ...

دین اسلام کا معاشی تصور 91

  دین اسلام کا معاشی تصور اسلام کوادیان عالم میں یہ خصوصی مقام حاصل ہے کہ یہ الہامی ادیان میں آخری کامل اور جامع دین ہے ۔اس میں دنیاوی اور روحانی اعمال کی تفریق کوختم کر کے معیشت اور اکل حلال کو عبادت کا درجہ دیا گیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اسلام کا نظام معیشت نہایت مضبوط بنیادوں پر استوار ہے یہی وجہ ہے کہ آج سامراجی اور سرمایہ داری نظام لڑکھڑا کر تباہی کے کنارے تک پہنچ چکا ہے اور خصوصا بینکاری عالمی طور پر کنگالی کا شکار ہورہی ہے ،اسلام کے معاشی اصولوں کے تصور پر قائم ادارے نہ صرف مستحکم ہیں بلکہ ان کی مانگ میں گزشتہ بیس سالوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔اگر چہ ان اداروں کے بہت سے امور ایسے ہیں جن میں شرعی اصولوں سے فی الواقع مطابقت کے لئے اصلاح کی ضرورت ہے مگر پھر بھی ان کے اثاثے دیگر اداروں کے مقابلہ میں نہ صرف اضافہ پذیر ہیں بلکہ محفوظ ترین شمار کئے جاتے ہیں ۔ اس عملی تجربہ کے نتیجہ میں یورپ اور امریکہ میں غیر مسلم بھی یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہور ہے ہیں کہ اسلامی معاشی ادارے خواہ وہ بینک ہوں ، تکافل کے دارے ہوں یا صارف کمپنیاں ،سماجی معاشی اداروں سے زیادہ متحکم اور منافع بخش ہیں...

تصوف اور اسلام 69

تصوف اور اسلام از قلم :حافظ معیز احمد                 تصوف مسلمانوں کے ہاں تزکیہ نفس کا ادارہ ہے ، جس کا آغاز دوسری صدی ہجری میں ہوا ۔ تصوف سے مراد  نفس کی اصلاح ، اپنے آپ کو رزائل سے بچانا  اور احسان کی طرف لے کر جانا ہے ۔ تصوف کی  یہ صورت بلکل جائز ہے ، اس میں خرابی والی کوئی بات نہیں  ۔ اس تصوف کو کئی علماء نے اختیار کیا ہے ۔  لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس تصوف میں انتہاء پسندی  بڑھتی گئی ، جس سے یہ تصوف خرافات کی آماجگاہ بن گیا ۔                 تصوف کے پہلے دور میں صوفی کتاب و سنت پہ چلنے والا اور اس کے احکامات کو ماننے والا ہوتا تھا ۔ جیسے جیسے تصوف میں خرافات بڑھی تو صوفی کتاب و سنت سے دور چلتے گئے ، حتی کہ موجودہ دور میں تو تصوف کی اصطلاح ایسے لوگوں پہ لاگو ہونے لگی ہے جنہیں کتاب و سنت کا سرے سے علم ہی نہ ہو۔ جو اپنی خرافات اور بناوٹی کرامات میں گم ہوں ۔ اگر کوئی صوفی کچھ خرافات سے ہٹ عبادت کرنے کی ک...