Skip to main content

ویلنٹائن ڈےتاریخی پس منظر اور اسلامی تعلیمات 55

 

ویلنٹائن ڈےتاریخی پس  منظر اور اسلامی تعلیمات

از قلم: سیف الرحمٰن



                                                                                    تیسری صدی عیسوی میں ایک پادری جس کا نام " ویلنٹائن" تھا ،جو  رومی بادشاہ  کلاڈیس ثانی کے زیر سایہ رہتا تھا ۔کسی نا فرمانی کی بنا پر پادری نے بادشاہ کو جیل میں ڈال دیا ۔ پادری اور جیلر کی لڑکی کے مابین عشق ہو گیا حتی کہ لڑکی نے اس عشق میں اپنا مذہب چھوڑ کر پادری کا مذہب "عیسائیت" قبول کر لیا۔ اب لڑکی روزانہ ایک سرخ گلاب لے کر پادری سے ملنے آتی تھی ۔ بادشاہ کو جب اس بات کا علم ہوا تو اس نے پادری کو پھانسی دینے کا حکم دے دیا۔جب پادری کو اس بات کا علم ہوا کہ بادشاہ نے اسے پھانسی دینے کا حکم دے دیا ہے تو اس نے اپنے آخری ایام اپنی معشوقہ کے ساتھ گزارنے کا کا فیصلہ کیا  اور اس کے لیے اس نے ایک کارڈ اپنی معشوقہ کے نام بھیجا ، جس پر یہ تحریر تھا " مخلص ویلنٹائن کی طرف سے " بالآخر چودہ فروری کو اس پادری کو پھانسی دیدی گئ ۔اس کے بعد ہر چودہ فروری کو یہ محبت کا دن اس پادری کے نام "ویلنٹائن ڈے " کے طور پر منایا جاتا ہے ۔

                                                                                    مادر پدر آزادی کا حامل مغربی معاشرہ جو فحاشی و عریانی  اور جنسی بےراہ روی کا شکار ہے ۔ اس معاشرے میں بے حیائی کا یہ تہوار بر سر بازار اور علی الاعلان منایا جاتا ہے۔ ساحل سمندر ، جھومتے گاتے نائٹ کلب ، پبلک پارکس اور بازار اس تہوار کے موقع پر جسم فروشی ، فحاشی وعریانی کے اڈے بنے ہوتے ہیں ۔

                                                                                    لیکن صد افسوس کی بات یہ ہے کہ مغربی تہذیب کے دلدادہ اس تہوار کو مسلم معاشروں میں بھی رائج کرنا چاہتے ہیں ۔ ہماری نوجوان نسل ایسے ہی شر پسند عناصر کے ہاتھوں فحاشی و عریانی کی دلدل میں دھنسی جا رہی ہے ۔ اس دن کے موقع پر پھول اور کارڈز تقسیم کیے جاتے ہیں ۔ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اپنے شرم و حیاء کو چاک چاک کرتے ہیں ۔ جس سے پورا معاشرہ انارکی  اور بے راہ روی کا شکار نظر آتا ہے ۔

                                                                                    اسلامک آئیڈیالوجی اس کے برعکس شرم و حیاء کی تلقین کرتی ہے ۔ جس سے عزت نفس ، خاندانی نظام اور معاشرہ اپنی درست اکائیوں پر قائم رہتا ہے ۔ اسلام حیاءکا آئینہ دار معاشرہ قائم کرنا چاہتا ہے ۔اس لیے اسلام نے عورتوں کو پردے  اور مردوں کو نظریں جھکانے کا حکم دیا ہے ۔  چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ نبی ﷺ نے کسی مرد کو عورت سے تنہائی اختیار کرنے سے منع کیا ہے ۔

                                                                                    ہمارا یہ ملّی فریضہ ہے  کہ مغربی تہذیب ( Western Civilization) کے توسیع پسندانہ عزائم  کا سد باب کریں اور اسلامی  نقطہ نظر کو مکمل دلائل کے ساتھ پیش کریں ۔ معاشرہ میں  اسلامی اقدار اور اخلاقیات  کو پروان چڑہایا جاسکے تاکہ مسلم معاشرے جاہلانہ اور بے حیائی کے تہواروں سے محفوظ رہ سکیں ۔

Comments

Popular posts from this blog

عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات 94

  عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات از قلم:                                                                                                                                                                                                                                            ...

دین اسلام کا معاشی تصور 91

  دین اسلام کا معاشی تصور اسلام کوادیان عالم میں یہ خصوصی مقام حاصل ہے کہ یہ الہامی ادیان میں آخری کامل اور جامع دین ہے ۔اس میں دنیاوی اور روحانی اعمال کی تفریق کوختم کر کے معیشت اور اکل حلال کو عبادت کا درجہ دیا گیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اسلام کا نظام معیشت نہایت مضبوط بنیادوں پر استوار ہے یہی وجہ ہے کہ آج سامراجی اور سرمایہ داری نظام لڑکھڑا کر تباہی کے کنارے تک پہنچ چکا ہے اور خصوصا بینکاری عالمی طور پر کنگالی کا شکار ہورہی ہے ،اسلام کے معاشی اصولوں کے تصور پر قائم ادارے نہ صرف مستحکم ہیں بلکہ ان کی مانگ میں گزشتہ بیس سالوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔اگر چہ ان اداروں کے بہت سے امور ایسے ہیں جن میں شرعی اصولوں سے فی الواقع مطابقت کے لئے اصلاح کی ضرورت ہے مگر پھر بھی ان کے اثاثے دیگر اداروں کے مقابلہ میں نہ صرف اضافہ پذیر ہیں بلکہ محفوظ ترین شمار کئے جاتے ہیں ۔ اس عملی تجربہ کے نتیجہ میں یورپ اور امریکہ میں غیر مسلم بھی یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہور ہے ہیں کہ اسلامی معاشی ادارے خواہ وہ بینک ہوں ، تکافل کے دارے ہوں یا صارف کمپنیاں ،سماجی معاشی اداروں سے زیادہ متحکم اور منافع بخش ہیں...

تصوف اور اسلام 69

تصوف اور اسلام از قلم :حافظ معیز احمد                 تصوف مسلمانوں کے ہاں تزکیہ نفس کا ادارہ ہے ، جس کا آغاز دوسری صدی ہجری میں ہوا ۔ تصوف سے مراد  نفس کی اصلاح ، اپنے آپ کو رزائل سے بچانا  اور احسان کی طرف لے کر جانا ہے ۔ تصوف کی  یہ صورت بلکل جائز ہے ، اس میں خرابی والی کوئی بات نہیں  ۔ اس تصوف کو کئی علماء نے اختیار کیا ہے ۔  لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس تصوف میں انتہاء پسندی  بڑھتی گئی ، جس سے یہ تصوف خرافات کی آماجگاہ بن گیا ۔                 تصوف کے پہلے دور میں صوفی کتاب و سنت پہ چلنے والا اور اس کے احکامات کو ماننے والا ہوتا تھا ۔ جیسے جیسے تصوف میں خرافات بڑھی تو صوفی کتاب و سنت سے دور چلتے گئے ، حتی کہ موجودہ دور میں تو تصوف کی اصطلاح ایسے لوگوں پہ لاگو ہونے لگی ہے جنہیں کتاب و سنت کا سرے سے علم ہی نہ ہو۔ جو اپنی خرافات اور بناوٹی کرامات میں گم ہوں ۔ اگر کوئی صوفی کچھ خرافات سے ہٹ عبادت کرنے کی ک...