اسلام آسان دین ہے
از قلم: معیذ احمد
اسلام
آسانی، سلامتی اور خیر خواہی کا دین ہے- اسلام کے آسان دین ہونے کا مطلب یہ ہے کہ
اسلام کے احکامات میں انسان کی استطاعت سے ذیادہ مشقت نہیں ہے۔ احکامات پر عمل
کرتے ہوئے جو طبعی مشقت انسان کو پیش آتی وہ تو ایک لازمی چیز ہے لیکن ضرورت سے ذیادہ
مشقت نہیں ہوتی۔
اسلام
دین فطرت ہے۔اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسان کو جس طبیعت پر پیدا کیا ہے اُس کا اصل
تقاضا دینِ اسلام ہی ہے۔ اور اس نے انسان کو اسی کام کا مکلف بنایا ہے جس کی وہ
استطاعت رکھتا ہے اور اگر کوئی کام اس کی استطاعت سے باہر ہو جائے تو اللہ رب
العزت اسے وہاں رخصت دے دیتے ہیں۔
جیسےنماز
کا حکم دیا گیا ہے تو جہاں انسان کسی مجبوری میں آیا تو فوری اسے رخصت دے دی۔ اگر
سفر میں ہے تو نماز قصر کر لے، اگر اس کے وقت میں ادا نہیں کر سکتا تو دو نمازوں
کو اکٹھا کر لے اور اگر بیمار ہے تو اجازت دے دی کہ وہ بیٹھ کر یا لیٹ کر بھی نماز
پڑھ سکتا ہے۔
اسی طرح روزے کا حکم دیا تو اس میں بھی مجبوری
کے وقت سہولت فراہم کر دی کہ بعد میں قضائی دے دینا۔
اور قرآن مجید کی آیت کریمہ:
{لَاۤ اِكْرَاهَ فِی الدِّیْنِ}
(البقرہ،آیت:256)
"دین میں کوئی سختی نہیں ہے"۔
اس سے مراد یہ ہے کہ دین میں داخلے کے لئے کسی
پر کوئی جبر نہیں ہے یعنی کسی کو زبردستی مسلمان نہیں کیا جا سکتا۔ جس طرح فوج میں
آنے پر کوئی سختی نہیں ہے لیکن جب آپ نے فوج میں داخل ہو جاتی ہیں تو آپ کو اس کے
قوانین کے ماتحت رہ کر زندگی بسر کرنی ہے۔
اسی
طرح جب آپ دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے ہیں تو پھر اسلام کے آپ سے کچھ مطالبے ہیں
اور وہ مطالبے پورے کرنے لازمی ہیں۔اور کوئی بھی کام جو اسے کرنے کا کہا گیا ہے وہ
اس کی استطاعت سے باہر نہیں ہے اور جہاں کسی مجبوری کی وجہ سے وہ ادا نہیں کر پاتا
تو اللہ تعالیٰ نے اسے رخصت دی ہے۔
Comments
Post a Comment