Skip to main content

منہجِ اہل حدیث ہی راہِ اعتدال،

 

منہجِ اہل حدیث ہی راہِ اعتدال

از قلم: حافظ معیذ احمد




                اہل الحدیث٬ جنہیں اصحاب الحدیث بھی کہا جاتا ہے، دوسری اور تیسری صدی ہجری (آٹھویں اور نویں صدی عیسوی) میں حدیث کے علما کی تحریک کے دوران منظر عام پر آئے۔ اہل الرائے اور اہل القرآن کے برخلاف اس تفرقے میں احادیثِ نبوی کی اسناد پر زور دیا جاتا ہے یعنی اہل الرائے کی طرح تقلید پر قائم نہیں ہوتے مگر اہل القرآن کی طرح حدیث کو نظر انداز بھی نہیں کرتے۔اہل حدیث کا یہ عقیدہ ہے کہ قرآن کے بعد حدیث کو اپنی زندگی کا مشعل راہ بنایا جائے۔

                اسلام دین اعتدال ہے جس نے ہمیشہ افراط و تفریط کی نفی اور درمیانی راستے کی حوصلہ افزائی کی ہے، مگر ایسی راہ جس میں انسان قرآن و سنت یا ان میں سے کسی ایک سے جدائی اختیار کر لے تو وہ راہ اعتدال اور  صراطِ مستقیم سے بھٹک جاتا ہے۔یہی اعتدال ہی منہج اہل حدیث ہے۔

                یہ منہج کسی دھرے بندی کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ایک فکر ہے ،جو جب، جہاں اور جیسے بھی اس فکر سے ہٹے گا وہ وہاں منہج اہل حدیث سے بھٹک جائے گا۔ اہل حدیث قرآن و حدیث کے ظاہر و مقاصد دونوں پہ فوکس کرتے ہیں  ، اس کے برعکس اگر کوئی شخص صرف ظاہر پہ عمل کر ے یا صرف مقاصد پہ عمل کرےتو یہ افراط و تفریط کا رویہ ہے ۔

                اہل حدیث کتاب و سنت کی ایسی تعبیر پیش کرتے ہیں جو روایت اور جدیدیت دونوں کے لیے کارساز ہوتی ہے ۔ اہل حدیث فکر میں  روحانی ترقی کے ساتھ مادی ترقی بھی شامل ہے ۔ موجودہ دنیا کے تمام مسائل کا حل اہل حدیث فکر میں پوشیدہ ہے ۔


Comments

Popular posts from this blog

عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات 94

  عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات از قلم:                                                                                                                                                                                                                                            ...

تصوف اور اسلام 69

تصوف اور اسلام از قلم :حافظ معیز احمد                 تصوف مسلمانوں کے ہاں تزکیہ نفس کا ادارہ ہے ، جس کا آغاز دوسری صدی ہجری میں ہوا ۔ تصوف سے مراد  نفس کی اصلاح ، اپنے آپ کو رزائل سے بچانا  اور احسان کی طرف لے کر جانا ہے ۔ تصوف کی  یہ صورت بلکل جائز ہے ، اس میں خرابی والی کوئی بات نہیں  ۔ اس تصوف کو کئی علماء نے اختیار کیا ہے ۔  لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس تصوف میں انتہاء پسندی  بڑھتی گئی ، جس سے یہ تصوف خرافات کی آماجگاہ بن گیا ۔                 تصوف کے پہلے دور میں صوفی کتاب و سنت پہ چلنے والا اور اس کے احکامات کو ماننے والا ہوتا تھا ۔ جیسے جیسے تصوف میں خرافات بڑھی تو صوفی کتاب و سنت سے دور چلتے گئے ، حتی کہ موجودہ دور میں تو تصوف کی اصطلاح ایسے لوگوں پہ لاگو ہونے لگی ہے جنہیں کتاب و سنت کا سرے سے علم ہی نہ ہو۔ جو اپنی خرافات اور بناوٹی کرامات میں گم ہوں ۔ اگر کوئی صوفی کچھ خرافات سے ہٹ عبادت کرنے کی ک...

دین اسلام کا معاشی تصور 91

  دین اسلام کا معاشی تصور اسلام کوادیان عالم میں یہ خصوصی مقام حاصل ہے کہ یہ الہامی ادیان میں آخری کامل اور جامع دین ہے ۔اس میں دنیاوی اور روحانی اعمال کی تفریق کوختم کر کے معیشت اور اکل حلال کو عبادت کا درجہ دیا گیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اسلام کا نظام معیشت نہایت مضبوط بنیادوں پر استوار ہے یہی وجہ ہے کہ آج سامراجی اور سرمایہ داری نظام لڑکھڑا کر تباہی کے کنارے تک پہنچ چکا ہے اور خصوصا بینکاری عالمی طور پر کنگالی کا شکار ہورہی ہے ،اسلام کے معاشی اصولوں کے تصور پر قائم ادارے نہ صرف مستحکم ہیں بلکہ ان کی مانگ میں گزشتہ بیس سالوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔اگر چہ ان اداروں کے بہت سے امور ایسے ہیں جن میں شرعی اصولوں سے فی الواقع مطابقت کے لئے اصلاح کی ضرورت ہے مگر پھر بھی ان کے اثاثے دیگر اداروں کے مقابلہ میں نہ صرف اضافہ پذیر ہیں بلکہ محفوظ ترین شمار کئے جاتے ہیں ۔ اس عملی تجربہ کے نتیجہ میں یورپ اور امریکہ میں غیر مسلم بھی یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہور ہے ہیں کہ اسلامی معاشی ادارے خواہ وہ بینک ہوں ، تکافل کے دارے ہوں یا صارف کمپنیاں ،سماجی معاشی اداروں سے زیادہ متحکم اور منافع بخش ہیں...