اہل کشمیر اور مسلم ممالک کا رویہ
از قلم: سیف الرحمٰن
مسئلہ
کشمیر عالمی سطح پر انتہائی خطرناک مسئلے کی صورت اختیار کر چکا ہے ۔بھارت کی
مسلسل ہٹ دھرمی، عالمی د نیا بالخصوص
اقوام متحدہ کی مجرمانہ خاموشی میخ میں آخری کیل کا کردار ادا کر رہے ہیں ۔اقوام
متحدہ کی تمام تر قراردادیں مسئلہ کشمیر حل کرنے میں ناکام ہیں ۔ جب کہ اہل کشمیر
گزشتہ چوہتر سال سے کشمیری مسلمان بھارتی غیض و غضب کا شکار ہیں ۔اہل کشمیر کی
سانسوں پہ پہرے بٹھائے گئے ہیں، بندوق کی زور پر انہیں خاموش کروایا جا رہا ہے ،
بوٹوں سے ان کے جذبات روندے جا رہے ہیں
اور روٹیاں مانگنے پہ ہمیشہ گولیاں ان کا مقدر بنی ہیں ۔
تعجب
اس بات پہ ہے کہ اس مسئلہ کو صرف پاکستان اور بھارت کا مسئلہ قرار دیا جا رہا ہے
۔اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ قومیت کی مغربی بنیادیں(علاقہ ، رنگ، نسل اور زبان )
ہماری رگو ں میں سرایت کر چکی ہیں ۔ چنانچہ کشمیر کے مسئلے کو صرف علاقے کا
مسئلہ بنا کر تمام مسلم دنیا ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر بیٹھی ہے ۔
دوسری
طرف اسلامک آئیڈیالوجی "قومیت "کی بجائے "ملت "کا تصور پیش
کرتا ہے ۔جس کی بنیاد ایک ہی نظریہ "
لا الہ الا اللہ " ہے ۔ملت کا تصور تمام مسلمانوں کو ایک لڑی میں پرو دیتا ہے
۔ تمام مسلمان ملّی مقاصد کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔
کسی ایک مسلمان کی تکلیف اور مسائل سے تمام مسلمان
متاثر ہوتے ہیں ۔اگر ہم مسئلہ کشمیر کو" ملت" کے زاویہ نظر سے دیکھیں تو یہ پوری مسلم دنیا کا مسئلہ ہے ۔ ایک خطے کے مسلمان جب
ظلم کا شکار ہوں یا کسی بھی پریشانی میں
مبتلاء ہوں تو تمام مسلمانوں کی
ذمہ
داری ہے ان کی تکالیف کا مداوا کریں ۔اسی طرح پوری مسلم دنیا کی یہ ذمہ داری ہے کہ
اہل کشمیر کے لیے قانونی جدو جہد کریں، وہ تمام تدبیریں اختیار کریں جو اہل کشمیر
کو آزادی دلانے میں معاون ثابت ہوں ،
ان
تمام اقدامات کی بھر پور حمایت کی جائے جو اہل کشمیر کے لیے آزادی کا باعث بنے ۔مزید
یہ کہ تعاون اور مدد سال میں ایک دن نہیں بلکہ مسلسل ہونا چاہیے تاکہ ہم ایک آزاد اور خودمختار ملت کے طور پر
زندہ رہ سکیں۔
Comments
Post a Comment