Skip to main content

اہل کشمیر اور مسلم ممالک کا رویہ 49


اہل کشمیر اور مسلم ممالک کا رویہ

از قلم: سیف الرحمٰن



                مسئلہ کشمیر عالمی سطح پر انتہائی خطرناک مسئلے کی صورت اختیار کر چکا ہے ۔بھارت کی مسلسل  ہٹ دھرمی، عالمی د نیا بالخصوص اقوام متحدہ کی مجرمانہ خاموشی میخ میں آخری کیل کا کردار ادا کر رہے ہیں ۔اقوام متحدہ کی تمام تر قراردادیں مسئلہ کشمیر حل کرنے میں ناکام ہیں ۔ جب کہ اہل کشمیر گزشتہ چوہتر سال سے کشمیری مسلمان بھارتی غیض و غضب کا شکار ہیں ۔اہل کشمیر کی سانسوں پہ پہرے بٹھائے گئے ہیں، بندوق کی زور پر انہیں خاموش کروایا جا رہا ہے ، بوٹوں سے ان کے جذبات روندے جا رہے ہیں  اور روٹیاں مانگنے پہ ہمیشہ گولیاں ان کا مقدر بنی ہیں ۔

                تعجب اس بات پہ ہے کہ اس مسئلہ کو صرف پاکستان اور بھارت کا مسئلہ قرار دیا جا رہا ہے ۔اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ قومیت کی مغربی بنیادیں(علاقہ ، رنگ، نسل اور  زبان )  ہماری رگو ں میں سرایت کر چکی ہیں ۔ چنانچہ کشمیر کے مسئلے کو صرف علاقے کا مسئلہ بنا کر تمام مسلم دنیا ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر بیٹھی ہے ۔

                دوسری طرف اسلامک آئیڈیالوجی "قومیت "کی بجائے "ملت "کا تصور پیش کرتا ہے ۔جس کی بنیاد ایک ہی  نظریہ " لا الہ الا اللہ " ہے ۔ملت کا تصور تمام مسلمانوں کو ایک لڑی میں پرو دیتا ہے ۔ تمام مسلمان ملّی مقاصد کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔

کسی ایک مسلمان کی تکلیف اور مسائل سے تمام مسلمان متاثر ہوتے ہیں ۔اگر ہم مسئلہ کشمیر کو" ملت" کے زاویہ نظر  سے دیکھیں تو یہ پوری  مسلم دنیا کا مسئلہ ہے ۔ ایک خطے کے مسلمان جب ظلم کا شکار ہوں  یا کسی بھی پریشانی میں مبتلاء ہوں تو تمام مسلمانوں کی

                ذمہ داری ہے ان کی تکالیف کا مداوا کریں ۔اسی طرح پوری مسلم دنیا کی یہ ذمہ داری ہے کہ اہل کشمیر کے لیے قانونی جدو جہد کریں، وہ تمام تدبیریں اختیار کریں جو اہل کشمیر کو آزادی دلانے میں معاون ثابت ہوں ،

                ان تمام اقدامات کی بھر پور حمایت کی جائے جو اہل کشمیر کے لیے آزادی کا باعث بنے ۔مزید یہ کہ تعاون اور مدد سال میں ایک دن نہیں بلکہ مسلسل ہونا چاہیے  تاکہ ہم ایک آزاد اور خودمختار ملت کے طور پر زندہ رہ سکیں۔


Comments

Popular posts from this blog

عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات 94

  عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات از قلم:                                                                                                                                                                                                                                            ...

دین اسلام کا معاشی تصور 91

  دین اسلام کا معاشی تصور اسلام کوادیان عالم میں یہ خصوصی مقام حاصل ہے کہ یہ الہامی ادیان میں آخری کامل اور جامع دین ہے ۔اس میں دنیاوی اور روحانی اعمال کی تفریق کوختم کر کے معیشت اور اکل حلال کو عبادت کا درجہ دیا گیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اسلام کا نظام معیشت نہایت مضبوط بنیادوں پر استوار ہے یہی وجہ ہے کہ آج سامراجی اور سرمایہ داری نظام لڑکھڑا کر تباہی کے کنارے تک پہنچ چکا ہے اور خصوصا بینکاری عالمی طور پر کنگالی کا شکار ہورہی ہے ،اسلام کے معاشی اصولوں کے تصور پر قائم ادارے نہ صرف مستحکم ہیں بلکہ ان کی مانگ میں گزشتہ بیس سالوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔اگر چہ ان اداروں کے بہت سے امور ایسے ہیں جن میں شرعی اصولوں سے فی الواقع مطابقت کے لئے اصلاح کی ضرورت ہے مگر پھر بھی ان کے اثاثے دیگر اداروں کے مقابلہ میں نہ صرف اضافہ پذیر ہیں بلکہ محفوظ ترین شمار کئے جاتے ہیں ۔ اس عملی تجربہ کے نتیجہ میں یورپ اور امریکہ میں غیر مسلم بھی یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہور ہے ہیں کہ اسلامی معاشی ادارے خواہ وہ بینک ہوں ، تکافل کے دارے ہوں یا صارف کمپنیاں ،سماجی معاشی اداروں سے زیادہ متحکم اور منافع بخش ہیں...

تصوف اور اسلام 69

تصوف اور اسلام از قلم :حافظ معیز احمد                 تصوف مسلمانوں کے ہاں تزکیہ نفس کا ادارہ ہے ، جس کا آغاز دوسری صدی ہجری میں ہوا ۔ تصوف سے مراد  نفس کی اصلاح ، اپنے آپ کو رزائل سے بچانا  اور احسان کی طرف لے کر جانا ہے ۔ تصوف کی  یہ صورت بلکل جائز ہے ، اس میں خرابی والی کوئی بات نہیں  ۔ اس تصوف کو کئی علماء نے اختیار کیا ہے ۔  لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس تصوف میں انتہاء پسندی  بڑھتی گئی ، جس سے یہ تصوف خرافات کی آماجگاہ بن گیا ۔                 تصوف کے پہلے دور میں صوفی کتاب و سنت پہ چلنے والا اور اس کے احکامات کو ماننے والا ہوتا تھا ۔ جیسے جیسے تصوف میں خرافات بڑھی تو صوفی کتاب و سنت سے دور چلتے گئے ، حتی کہ موجودہ دور میں تو تصوف کی اصطلاح ایسے لوگوں پہ لاگو ہونے لگی ہے جنہیں کتاب و سنت کا سرے سے علم ہی نہ ہو۔ جو اپنی خرافات اور بناوٹی کرامات میں گم ہوں ۔ اگر کوئی صوفی کچھ خرافات سے ہٹ عبادت کرنے کی ک...