Skip to main content

مغرب کی فکری یلغار 58

 

مغرب کی  فکری یلغار

از قلم: محمد اسلم بن محمد یاسین 



                ہم تاریخی طور پر دیکھیں تو وہی اقوام دنیا میں غالب اور بلند مقام حاصل کر پائی ہیں ، جو اپنے نظریہ حیات  اور  اقدار و روایات  کے ساتھ مخلص رہی ہیں ۔ جب بھی کسی قوم نے اپنے "نظریہ حیات" کو پس پشت ڈالا تو وہ قوم زوال کا شکار ہوئی ۔ بالخصوص مسلم دنیا کے لیے "نظریہ حیات "سے وابستگی اس قدر ضروری ہے کہ اللہ تعالی نے ان کے عروج اور زوال کو ان کے "نظریہ حیات" کے ساتھ مشروط اور مربوط کیا ہے ۔

                گزشتہ دو سو سال سے مسلمانوں کے غلبے کی جگہ اقوام مغرب نے حاصل کر لی ہے ۔ مغرب اپنے نظریہ حیات اور  اقدار و روایات  کو مادی ٹیکنالوجی کے ذریعے مسلم دنیا پر ٹھونسنا چاہتا ہے ۔ مغرب  سے اٹھنے والے نظریات (سیکولرزم ، کیمونزم ، جمہوریت ، نیشنلزم اور  ریشنلزم وغیرہ) مسلم امہ کے لیے زہر قاتل ثابت ہو رہے ہیں  ۔  یہ نظریات مسلمانوں کو ان کے دین   اور اقدار و روایات سے دور کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں ۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ مسلم حکمران  اور عوام  مغرب کی پیروی میں اپنے آپ  کو ترقی یافتہ سمجھتے ہیں  اور فخر محسوس کرتے ہیں ۔  مسلم معاشرے کی اقدار و روایات اسلام سے ہٹ کو مغربی روایات کی آئینہ دار نظر آتی ہیں ۔

 یہ وہ غیر فوجی طریقہ ہے جو مغربی حملے نے اسلامی زندگی کے ان پہلوؤں کو ختم کرنے اور مسلمانوں کو اسلام کی پیروی سے ہٹانے کے لیے استعمال کیا، جن کا تعلق فرد اور معاشرہ دونوں سے ہے۔  اس یلغار کے ہتھیار فکر، آراء، چالیں، نظریات، شکوک و شبہات، شاندار منطق، پیش کش کی چالاکی، دشمنی کی شدید، الفاظ کو ان کی جگہ سے تحریف کرنا وغیرہ ہیں۔فکری یلغار کی خصوصیت اس کی جامعیت اور وسعت سے ہے، کیونکہ یہ ایک دائمی جنگ ہے جو کسی میدان تک محدود نہیں ہے، بلکہ تمام انسانی زندگی کے لوگوں تک پھیلی ہوئی ہے۔

                ضرورت اس امر کی ہے کہ امت مسلمہ میں ایسے رجال کار تیار کیے جاسکیں  ، جو انفرادی اصلاح اور اجتماعی تنظیم سازی کی اہمیت رکھتے ہوں ۔ وہ کتاب و سنت کے مطابق ایک فرد کی تربیت کر سکیں اور کتاب و سنت کے مطابق مسلمانوں کا نظام چلا سکیں ۔ اسلامی معاشرے کو اسلامی تعلیمات اور اقدا ر سے روشناس کروائیں ۔ تاکہ  ہم اس گمراہ کن اور جاہلانہ یلغار سے اپنے آپ کو محفوظ کر سکیں ۔

Comments

Popular posts from this blog

عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات 94

  عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات از قلم:                                                                                                                                                                                                                                            ...

دین اسلام کا معاشی تصور 91

  دین اسلام کا معاشی تصور اسلام کوادیان عالم میں یہ خصوصی مقام حاصل ہے کہ یہ الہامی ادیان میں آخری کامل اور جامع دین ہے ۔اس میں دنیاوی اور روحانی اعمال کی تفریق کوختم کر کے معیشت اور اکل حلال کو عبادت کا درجہ دیا گیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اسلام کا نظام معیشت نہایت مضبوط بنیادوں پر استوار ہے یہی وجہ ہے کہ آج سامراجی اور سرمایہ داری نظام لڑکھڑا کر تباہی کے کنارے تک پہنچ چکا ہے اور خصوصا بینکاری عالمی طور پر کنگالی کا شکار ہورہی ہے ،اسلام کے معاشی اصولوں کے تصور پر قائم ادارے نہ صرف مستحکم ہیں بلکہ ان کی مانگ میں گزشتہ بیس سالوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔اگر چہ ان اداروں کے بہت سے امور ایسے ہیں جن میں شرعی اصولوں سے فی الواقع مطابقت کے لئے اصلاح کی ضرورت ہے مگر پھر بھی ان کے اثاثے دیگر اداروں کے مقابلہ میں نہ صرف اضافہ پذیر ہیں بلکہ محفوظ ترین شمار کئے جاتے ہیں ۔ اس عملی تجربہ کے نتیجہ میں یورپ اور امریکہ میں غیر مسلم بھی یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہور ہے ہیں کہ اسلامی معاشی ادارے خواہ وہ بینک ہوں ، تکافل کے دارے ہوں یا صارف کمپنیاں ،سماجی معاشی اداروں سے زیادہ متحکم اور منافع بخش ہیں...

تصوف اور اسلام 69

تصوف اور اسلام از قلم :حافظ معیز احمد                 تصوف مسلمانوں کے ہاں تزکیہ نفس کا ادارہ ہے ، جس کا آغاز دوسری صدی ہجری میں ہوا ۔ تصوف سے مراد  نفس کی اصلاح ، اپنے آپ کو رزائل سے بچانا  اور احسان کی طرف لے کر جانا ہے ۔ تصوف کی  یہ صورت بلکل جائز ہے ، اس میں خرابی والی کوئی بات نہیں  ۔ اس تصوف کو کئی علماء نے اختیار کیا ہے ۔  لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس تصوف میں انتہاء پسندی  بڑھتی گئی ، جس سے یہ تصوف خرافات کی آماجگاہ بن گیا ۔                 تصوف کے پہلے دور میں صوفی کتاب و سنت پہ چلنے والا اور اس کے احکامات کو ماننے والا ہوتا تھا ۔ جیسے جیسے تصوف میں خرافات بڑھی تو صوفی کتاب و سنت سے دور چلتے گئے ، حتی کہ موجودہ دور میں تو تصوف کی اصطلاح ایسے لوگوں پہ لاگو ہونے لگی ہے جنہیں کتاب و سنت کا سرے سے علم ہی نہ ہو۔ جو اپنی خرافات اور بناوٹی کرامات میں گم ہوں ۔ اگر کوئی صوفی کچھ خرافات سے ہٹ عبادت کرنے کی ک...