مغرب کی
فکری یلغار
از قلم: محمد اسلم بن محمد یاسین
ہم
تاریخی طور پر دیکھیں تو وہی اقوام دنیا میں غالب اور بلند مقام حاصل کر پائی ہیں
، جو اپنے نظریہ حیات اور اقدار و روایات کے ساتھ مخلص رہی ہیں ۔ جب بھی کسی قوم نے اپنے
"نظریہ حیات" کو پس پشت ڈالا تو وہ قوم زوال کا شکار ہوئی ۔ بالخصوص
مسلم دنیا کے لیے "نظریہ حیات "سے وابستگی اس قدر ضروری ہے کہ اللہ تعالی
نے ان کے عروج اور زوال کو ان کے "نظریہ حیات" کے ساتھ مشروط اور مربوط
کیا ہے ۔
گزشتہ
دو سو سال سے مسلمانوں کے غلبے کی جگہ اقوام مغرب نے حاصل کر لی ہے ۔ مغرب اپنے
نظریہ حیات اور اقدار و روایات کو مادی ٹیکنالوجی کے ذریعے مسلم دنیا پر
ٹھونسنا چاہتا ہے ۔ مغرب سے اٹھنے والے
نظریات (سیکولرزم ، کیمونزم ، جمہوریت ، نیشنلزم اور ریشنلزم وغیرہ) مسلم امہ کے لیے زہر قاتل ثابت
ہو رہے ہیں ۔ یہ نظریات مسلمانوں کو ان کے دین اور اقدار و روایات سے دور کرنے میں کلیدی
کردار ادا کر رہے ہیں ۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ مسلم حکمران اور عوام
مغرب کی پیروی میں اپنے آپ کو ترقی
یافتہ سمجھتے ہیں اور فخر محسوس کرتے ہیں
۔ مسلم معاشرے کی اقدار و روایات اسلام سے
ہٹ کو مغربی روایات کی آئینہ دار نظر آتی ہیں ۔
یہ وہ غیر
فوجی طریقہ ہے جو مغربی حملے نے اسلامی زندگی کے ان پہلوؤں کو ختم کرنے اور
مسلمانوں کو اسلام کی پیروی سے ہٹانے کے لیے استعمال کیا، جن کا تعلق فرد اور
معاشرہ دونوں سے ہے۔ اس یلغار کے ہتھیار
فکر، آراء، چالیں، نظریات، شکوک و شبہات، شاندار منطق، پیش کش کی چالاکی، دشمنی کی
شدید، الفاظ کو ان کی جگہ سے تحریف کرنا وغیرہ ہیں۔فکری یلغار کی خصوصیت اس کی
جامعیت اور وسعت سے ہے، کیونکہ یہ ایک دائمی جنگ ہے جو کسی میدان تک محدود نہیں
ہے، بلکہ تمام انسانی زندگی کے لوگوں تک پھیلی ہوئی ہے۔
ضرورت
اس امر کی ہے کہ امت مسلمہ میں ایسے رجال کار تیار کیے جاسکیں ، جو انفرادی اصلاح اور اجتماعی تنظیم سازی کی
اہمیت رکھتے ہوں ۔ وہ کتاب و سنت کے مطابق ایک فرد کی تربیت کر سکیں اور کتاب و
سنت کے مطابق مسلمانوں کا نظام چلا سکیں ۔ اسلامی معاشرے کو اسلامی تعلیمات اور
اقدا ر سے روشناس کروائیں ۔ تاکہ ہم اس
گمراہ کن اور جاہلانہ یلغار سے اپنے آپ کو محفوظ کر سکیں ۔
Comments
Post a Comment