Skip to main content

اسلام میں ذمہ داری کا تصور، 62

 

اسلام میں ذمہ داری کا تصور

از قلم : اویس الرحمن



                                                                     قوموں کی بلندی اور عروج  میں کئی اقدار اپنا کردار ادا کرتی ہیں ۔ ان میں سے بنیادی قدر ذمہ داری ہے ۔انسان کو اس دنیا میں بے شمار ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانا پڑتا ہے ۔ جن میں سر فہرست خاندنی و معاشرتی  سطح پر انفرادی و اجتماعی ذمہ داریاں ہیں ۔ گویا کہ انسان کی پوری زندگی ذمہ داریوں کی ہی تعبیر ہے ۔ نبی ﷺنے احساس ذمہ داری بیان کرتے ہوئے فرمایا:

( أَلاَ كُلُّكُمْ رَاعٍ وَ كُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ فَالأَمِيرُ الَّذِي عَلَى النَّاسِ رَاعٍ وَ هُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ وَ هُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُمْ وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ عَلَى بَيْتِ بَعْلِهَا وَ وَلَدِهِ وَ هِيَ مَسْئُولَةٌ عَنْهُمْ وَالْعَبْدُ رَاعٍ عَلَى مَالِ سَيِّدِهِ وَ هُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُ أَلا فَكُلُّكُمْ رَاعٍ وَ كُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ) رواہ المسلم

                                                                                     "تم میں سے ہرشخص حاکم ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہوگا (حاکم سے مراد منتظم اور نگراں کار اور محافظ ہے) پھر جو کوئی بادشاہ ہے وہ لوگوں کا حاکم ہے اور اس سے اس کی رعیت کا سوال ہو گا(کہ اس نے اپنی رعیت کے حق ادا کیے، ان کی جان و مال کی حفاظت کی یا نہیں؟) اور آدمی اپنے گھر والوں کا حاکم ہے اور اس سے ان کے بارے میں سوال ہوگا اور عورت اپنے خاوند کے گھر کی اور بچوں کی حاکم ہے، اس سے اس کے بارے میں سوال ہو گا اور غلام اپنے مالک کے مال کا نگران ہے اور اس سے اس کے متعلق سوال ہو گا۔ غرضیکہ تم میں سے ہر ایک شخص حاکم ہے اور تم میں سے ہر ایک سے اس کی رعیت کا سوال ہو گا"۔

                                                                                     ذمہ داری کسی عہدے کا نام نہیں ہے بلکہ  انسانی رویے کا نام ہے ، جس کا تعلق پوری انسانی زندگی سے ہے ۔ شریعت اسلامیہ نے ہمیں ا نفرادی و اجتماعی دونوں سطح پر ذمہ دار مقرر کیا ہے ۔ اللہ تعالی نے ذمہ داری کے تصور کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:

إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا

"بیشک کان، آنکھیں اور دل ان سب سے سوال کیا جائے گا "

                                                                                     انسان کی شب و روز کی کامیابی ، ترقی کی نئی نئی راہیں ، منزل کا حصول  اور زندگی میں ربط سب کچھ ذمہ داری کے مرہون منت ہے ۔ اسلام جس طرح انسان کو اس کے انفرادی مسائل میں ذمہ داری کے تصور سے آگاہ کرتا ہے بلکل اسی طرح اجتماعی زندگی میں بھی ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے کا حکم دیتا ہے ۔

                                                                                     موجودہ مسلم دنیا کے خراب حالات اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ امت کے بڑوں میں احساس ذمہ داری باقی نہ رہا تھا ۔ سیاسی و معاشی امور میں ذمہ دار افراد کا فقدان ، علماءکا فکری راہنمائی کے میدان میں ذمہ دارانہ رویے سے انحراف ہمارے زوال کی بڑی وجوہات ہیں ۔ غیر ذمہ دارانہ رویہ  غفلت سستی اور کاہلی کو جنم دیتاہے ۔جو کسی بھی قوم کے زوال میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں ۔

                                                                                     اگر ہم اپنا  ماضی دوہرانہ چاہتے ہیں  اور تو ہم میں سے ہر فرد کو اپنی ذمہ داری کا احساس اور اسے پایہ تکمیل تک پہنچانا ہے گا ، آج کے کام کو آج ہی کرنا ہو گا ، خواب غفلت کو چھوڑ کر ذمہ دار معاشرے کے قیام کے لیے جدوجہد کرنا ہو گی ۔ وسائل کا درست استعمال کرنا اور معاملات کی تکمیل کو اپنی عادت بنانا ہو گا۔ اللہ  تعالی ہمیں انفرادی اور اجتماعی معاملات میں قرآن و سنت کا تابع بنا ئے۔ (آمین)

                                                                                    

 

 

 

Comments

Popular posts from this blog

عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات 94

  عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات از قلم:                                                                                                                                                                                                                                            ...

دین اسلام کا معاشی تصور 91

  دین اسلام کا معاشی تصور اسلام کوادیان عالم میں یہ خصوصی مقام حاصل ہے کہ یہ الہامی ادیان میں آخری کامل اور جامع دین ہے ۔اس میں دنیاوی اور روحانی اعمال کی تفریق کوختم کر کے معیشت اور اکل حلال کو عبادت کا درجہ دیا گیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اسلام کا نظام معیشت نہایت مضبوط بنیادوں پر استوار ہے یہی وجہ ہے کہ آج سامراجی اور سرمایہ داری نظام لڑکھڑا کر تباہی کے کنارے تک پہنچ چکا ہے اور خصوصا بینکاری عالمی طور پر کنگالی کا شکار ہورہی ہے ،اسلام کے معاشی اصولوں کے تصور پر قائم ادارے نہ صرف مستحکم ہیں بلکہ ان کی مانگ میں گزشتہ بیس سالوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔اگر چہ ان اداروں کے بہت سے امور ایسے ہیں جن میں شرعی اصولوں سے فی الواقع مطابقت کے لئے اصلاح کی ضرورت ہے مگر پھر بھی ان کے اثاثے دیگر اداروں کے مقابلہ میں نہ صرف اضافہ پذیر ہیں بلکہ محفوظ ترین شمار کئے جاتے ہیں ۔ اس عملی تجربہ کے نتیجہ میں یورپ اور امریکہ میں غیر مسلم بھی یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہور ہے ہیں کہ اسلامی معاشی ادارے خواہ وہ بینک ہوں ، تکافل کے دارے ہوں یا صارف کمپنیاں ،سماجی معاشی اداروں سے زیادہ متحکم اور منافع بخش ہیں...

تصوف اور اسلام 69

تصوف اور اسلام از قلم :حافظ معیز احمد                 تصوف مسلمانوں کے ہاں تزکیہ نفس کا ادارہ ہے ، جس کا آغاز دوسری صدی ہجری میں ہوا ۔ تصوف سے مراد  نفس کی اصلاح ، اپنے آپ کو رزائل سے بچانا  اور احسان کی طرف لے کر جانا ہے ۔ تصوف کی  یہ صورت بلکل جائز ہے ، اس میں خرابی والی کوئی بات نہیں  ۔ اس تصوف کو کئی علماء نے اختیار کیا ہے ۔  لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس تصوف میں انتہاء پسندی  بڑھتی گئی ، جس سے یہ تصوف خرافات کی آماجگاہ بن گیا ۔                 تصوف کے پہلے دور میں صوفی کتاب و سنت پہ چلنے والا اور اس کے احکامات کو ماننے والا ہوتا تھا ۔ جیسے جیسے تصوف میں خرافات بڑھی تو صوفی کتاب و سنت سے دور چلتے گئے ، حتی کہ موجودہ دور میں تو تصوف کی اصطلاح ایسے لوگوں پہ لاگو ہونے لگی ہے جنہیں کتاب و سنت کا سرے سے علم ہی نہ ہو۔ جو اپنی خرافات اور بناوٹی کرامات میں گم ہوں ۔ اگر کوئی صوفی کچھ خرافات سے ہٹ عبادت کرنے کی ک...