Skip to main content

سیاست اور مذہب میں موروثیت 50

 

 

’’سیاست اور مذہب میں موروثیت‘‘

از قلم : سیف الرحمن




            مذہبی اور سیاسی اداروں اور تحریکوں کی تباہی کا ایک اہم سبب سیاست اور مذہب میں موروثیت ہے۔ارث کا معاملہ اگر مال و دولت کے ساتھ رہتا تو درست تھا لیکن جب سے یہ معاملہ عہدے میں آیا ہے تو بے شمار مسائل کا سبب بنا ہے۔ہر شخص کی خواہش ہے کہ اس کے ادارے ، پارٹی اور عہدے کا وارث اس کی اولاد سے ہو۔ جس کے نتائج یہ سامنے آتے ہیں کہ وہ تمام  قابل  لوگ جو دہائیوں سے اس ادارے  اور پارٹی میں موجود ہوتے ہین ان کی ہر رائے کو پس پشت ڈال کر سلیکٹڈ عہدے دار اپنی رائے کو ترجیح دیتا ہے،جس کی وجہ سے اختلافات زور پکڑنا شروع کر دیتے ہیں۔

            جسکا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ سلیکٹڈ عہدیدار میرٹ کی بجائے ایسے افراد کا انتخاب کرتا ہے جو اسکی رائے کے سامنے سر تسلیم خم کر لیتے ہیں ،جسکی وجہ سے اداروں اور تحریکوں میں نا اہل افراد سر جوڑ لیتے ہیں۔دوسرے الفاظ میں مفادات کی جنگ چھڑ جاتی ہے۔

            پاکستان کی موجودہ سیاسی جماعتوں میں مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کو ہی دیکھ لیں وہ لوگ جو دہائیوں سے ان جماعتوں کے ہم سفر تھے  انکو چھوڑ کر عہدے اور اختیارات قاعدین کی اولادوں کو تھما دیے گئے ہیں ۔ یہی حال دینی اداروں اور تحریکوں کا ہے اسکی اہم مثال ڈاکٹر اسرار احمد کی تنظیم اسلامی کی  صدارت عاکف سعیدصاحب کو دے دی گئی ۔

            ضرورت ان لوگوں کی ہے جنکی تربیت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جیسی ہو جس نے اپنے بیٹے کے متعلق کہا کہ

’’جسکو اپنی بیوی کو طلاق دینی نہیں آتی میں اسے اتنی بڑی سلطنت کا خلیفہ بنا دوں‘‘

                        اگر ہم اسلام کو دیکھیں تو اسلام قابلیت اور میرٹ کو اہمیت دیتا ہے ۔اگر میرٹ اور قابلیت بیٹے میں بھی ہو تو اسے بھی عہدہ دینے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔پاکستان میں اسکی بہترین مثال مولانا مودودی علیہ الرحمہ ہیں۔ انہوں نے  میرٹ اور قابلیت نہ ہونے کی وجہ  سے جماعت اسلامی کی قیادت اپنے بیٹے کو نہیں دی ۔ نا اہل اور میرٹ کے بغیر عہدہ دینے کے متعلق نبی ﷺ نے فرمایا:

            (إِذَا وُسِّدَ الأَمْرُ إِلَى غَيْرِ أَهْلِهِ فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ ) ( صحیح بخاری: 59)

                        "جب کوئی معاملہ نا اہل لوگوں کے سپرد کر دیا  جائے تو قیامت کا انتظار کرو"

            چنانچہ ہمیں چاہیے کہ کسی بھی عہدے کو منتقل کرتے وقت اسلام کے طریقہ کو مدنظر رکھا جائے ۔ اللہ تعالی ہمیں اسلام سمجھنے کی توفیق دے ۔ آمین۔

Comments

Popular posts from this blog

عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات 94

  عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات از قلم:                                                                                                                                                                                                                                            ...

دین اسلام کا معاشی تصور 91

  دین اسلام کا معاشی تصور اسلام کوادیان عالم میں یہ خصوصی مقام حاصل ہے کہ یہ الہامی ادیان میں آخری کامل اور جامع دین ہے ۔اس میں دنیاوی اور روحانی اعمال کی تفریق کوختم کر کے معیشت اور اکل حلال کو عبادت کا درجہ دیا گیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اسلام کا نظام معیشت نہایت مضبوط بنیادوں پر استوار ہے یہی وجہ ہے کہ آج سامراجی اور سرمایہ داری نظام لڑکھڑا کر تباہی کے کنارے تک پہنچ چکا ہے اور خصوصا بینکاری عالمی طور پر کنگالی کا شکار ہورہی ہے ،اسلام کے معاشی اصولوں کے تصور پر قائم ادارے نہ صرف مستحکم ہیں بلکہ ان کی مانگ میں گزشتہ بیس سالوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔اگر چہ ان اداروں کے بہت سے امور ایسے ہیں جن میں شرعی اصولوں سے فی الواقع مطابقت کے لئے اصلاح کی ضرورت ہے مگر پھر بھی ان کے اثاثے دیگر اداروں کے مقابلہ میں نہ صرف اضافہ پذیر ہیں بلکہ محفوظ ترین شمار کئے جاتے ہیں ۔ اس عملی تجربہ کے نتیجہ میں یورپ اور امریکہ میں غیر مسلم بھی یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہور ہے ہیں کہ اسلامی معاشی ادارے خواہ وہ بینک ہوں ، تکافل کے دارے ہوں یا صارف کمپنیاں ،سماجی معاشی اداروں سے زیادہ متحکم اور منافع بخش ہیں...

تصوف اور اسلام 69

تصوف اور اسلام از قلم :حافظ معیز احمد                 تصوف مسلمانوں کے ہاں تزکیہ نفس کا ادارہ ہے ، جس کا آغاز دوسری صدی ہجری میں ہوا ۔ تصوف سے مراد  نفس کی اصلاح ، اپنے آپ کو رزائل سے بچانا  اور احسان کی طرف لے کر جانا ہے ۔ تصوف کی  یہ صورت بلکل جائز ہے ، اس میں خرابی والی کوئی بات نہیں  ۔ اس تصوف کو کئی علماء نے اختیار کیا ہے ۔  لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس تصوف میں انتہاء پسندی  بڑھتی گئی ، جس سے یہ تصوف خرافات کی آماجگاہ بن گیا ۔                 تصوف کے پہلے دور میں صوفی کتاب و سنت پہ چلنے والا اور اس کے احکامات کو ماننے والا ہوتا تھا ۔ جیسے جیسے تصوف میں خرافات بڑھی تو صوفی کتاب و سنت سے دور چلتے گئے ، حتی کہ موجودہ دور میں تو تصوف کی اصطلاح ایسے لوگوں پہ لاگو ہونے لگی ہے جنہیں کتاب و سنت کا سرے سے علم ہی نہ ہو۔ جو اپنی خرافات اور بناوٹی کرامات میں گم ہوں ۔ اگر کوئی صوفی کچھ خرافات سے ہٹ عبادت کرنے کی ک...