’’سیاست اور مذہب میں موروثیت‘‘
از قلم : سیف الرحمن
مذہبی
اور سیاسی اداروں اور تحریکوں کی تباہی کا ایک اہم سبب سیاست اور مذہب میں موروثیت
ہے۔ارث کا معاملہ اگر مال و دولت کے ساتھ رہتا تو درست تھا لیکن جب سے یہ معاملہ
عہدے میں آیا ہے تو بے شمار مسائل کا سبب بنا ہے۔ہر شخص کی خواہش ہے کہ اس کے
ادارے ، پارٹی اور عہدے کا وارث اس کی اولاد سے ہو۔ جس کے نتائج یہ سامنے آتے ہیں
کہ وہ تمام قابل لوگ جو دہائیوں سے اس ادارے اور پارٹی میں موجود ہوتے ہین ان کی ہر رائے کو
پس پشت ڈال کر سلیکٹڈ عہدے دار اپنی رائے کو ترجیح دیتا ہے،جس کی وجہ سے اختلافات
زور پکڑنا شروع کر دیتے ہیں۔
جسکا لازمی نتیجہ یہ
نکلتا ہے کہ سلیکٹڈ عہدیدار میرٹ کی بجائے ایسے افراد کا انتخاب کرتا ہے جو اسکی
رائے کے سامنے سر تسلیم خم کر لیتے ہیں ،جسکی وجہ سے اداروں اور تحریکوں میں نا اہل
افراد سر جوڑ لیتے ہیں۔دوسرے الفاظ میں مفادات کی جنگ چھڑ جاتی ہے۔
پاکستان کی موجودہ سیاسی
جماعتوں میں مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کو ہی دیکھ لیں وہ لوگ جو دہائیوں سے ان
جماعتوں کے ہم سفر تھے انکو چھوڑ کر عہدے
اور اختیارات قاعدین کی اولادوں کو تھما دیے گئے ہیں ۔ یہی حال دینی اداروں اور
تحریکوں کا ہے اسکی اہم مثال ڈاکٹر اسرار احمد کی تنظیم اسلامی کی صدارت عاکف سعیدصاحب کو دے دی گئی ۔
ضرورت ان لوگوں کی ہے
جنکی تربیت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جیسی ہو جس نے اپنے بیٹے کے متعلق کہا کہ
’’جسکو
اپنی بیوی کو طلاق دینی نہیں آتی میں اسے اتنی بڑی سلطنت کا خلیفہ بنا دوں‘‘
اگر ہم اسلام کو دیکھیں تو اسلام قابلیت
اور میرٹ کو اہمیت دیتا ہے ۔اگر میرٹ اور قابلیت بیٹے میں بھی ہو تو اسے بھی عہدہ
دینے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔پاکستان میں اسکی بہترین مثال مولانا مودودی علیہ
الرحمہ ہیں۔ انہوں نے میرٹ اور قابلیت نہ
ہونے کی وجہ سے جماعت اسلامی کی قیادت
اپنے بیٹے کو نہیں دی ۔ نا اہل اور میرٹ کے بغیر عہدہ دینے کے متعلق نبی ﷺ نے
فرمایا:
(إِذَا وُسِّدَ الأَمْرُ إِلَى
غَيْرِ أَهْلِهِ فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ ) ( صحیح
بخاری: 59)
"جب
کوئی معاملہ نا اہل لوگوں کے سپرد کر دیا
جائے تو قیامت کا انتظار کرو"
چنانچہ
ہمیں چاہیے کہ کسی بھی عہدے کو منتقل کرتے وقت اسلام کے طریقہ کو مدنظر رکھا جائے
۔ اللہ تعالی ہمیں اسلام سمجھنے کی توفیق دے ۔ آمین۔

Comments
Post a Comment