Skip to main content

سکون کی تلاش کتاب و سنت کی روشنی میں 71

 

سکون کی تلاش کتاب و سنت کی روشنی میں

از قلم : راحیل قمر



                موجودہ انسانی زندگی میں کرب و الم ایک لازمی چیز ہے ۔انفرادی اور اجتماعی سطح کی الجھنیں اورغم پریشانیوں کا باعث بن رہے ہیں ۔ ہم میں سے اکثر ساری زندگی اسی کشمکش میں رہتے ہیں کہ یہ مسئلہ بس حل ہو جائے تو زندگی میں سکون آ جائے۔فلاں شخص ہمارے بارے میں مثبت ہو جائے تو زندگی میں سکون ہو جائے۔وہ چیز بس مجھے مل جائے تو زندگی پرسکون ہو جائے۔فلاں امتحان بس پاس ہو جائے،وہ ڈگری ،وہ عہدہ مجھے مل جائے تو زندگی کے مسئلے ختم ہو جائیں گے اور  سکون مل جائے۔ میری یہ خامی مجھ سے دور ہو جائے۔بس میری یہ دعا قبول ہو جائے ۔

                وہ سب چیزیں بھی ہمیں مل جاتیں ہیں ، مسئلے بھی حل ہوتے جاتے ہیں۔ حالات بھی بدلتے جاتے ہیں ،دعائیں بھی قبول ہوتی جاتی ہیں۔ انسانوں کے منفی رویے بھی بدل جاتے ہیں، پر پہلے مسئلے کے بعد کوئی اور مسئلہ آ جاتا ہے۔ پہلے محرومیاں دور ہونے کے بعد کچھ اور چیزوں سے انسان محروم ہو جاتا ہے۔زمانے بھر کی خاک چھان کر سکون پھر بھی نہیں ملتا،دنیا بھر کے لوگوں کو راضی کر کے ۔ ساری دنیا کی چیزیں اپنے گرد اکٹھی کر کے، سکون پھر بھی نہیں ملتا۔ کیوں نہیں ملتا سکون....؟

کیونکہ سکون تو ہم نے تلاش ہی نہیں کیا ، ہم تواپنی خواہشات کی تکمیل میں لگے ہوئے تھے ۔ اگر خواہشات کو پورا کریں گے تو اس سے خواہشات بڑھیں گی نہ کہ کم ہوں گی ۔ ان چیزوں میں ا للہ نے سکون رکھا ہی نہیں۔ اللہ نے بتایا ہی نہیں کہ سکون خواہشات کی تکمیل میں ہے۔

                سکون تلاش کرنے سے پہلے ہمیں ان مسائل اور پریشانیوں کا حل تلاش کرنا ہو گا ، جو روز مرہ کی زندگی میں ہمارے گلےکا طوق بنی ہوئی ہیں ۔ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو ہماری تمام پریشانیوں اور غموں کی وجہ کتاب و سنت سے دوری ہے ۔ الہی تعلیمات سے کج روی نے  ہمیں اغیار کا غلام بنادیا ہے ۔چنانچہ ہمیں معلوم ہوا کہ ہمارے مسائل کا حل کتاب و سنت سے تعلق مضبوط کرنے میں ہے ۔

                اللہ نے تو بتایا ہے کہ سکون صرف اور صرف میری یاد میں ہے ،میرے ذکر ، میری عبادت میں ، میری اطاعت میں ہے ۔ انفرادی اور اجتماعی سطح پر دکھوں  اور غموں کا مداوا کرنے کاطریقہ یہ ہے کہ انفرادی اجتماعی سطح پر اللہ تعالی کے احکامات کی تعمیل کریں ۔تو آئیے سکون کی تلاش کے لئے خواہشات میں وقت صرف کرنے کے بجائے عبادات الہی اور اطاعت الہٰی میں زندگی کی قیمتی سائنس گزار کر دنیوی و اُخروی سکون حاصل کر سکیں۔



Comments

Popular posts from this blog

عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات 94

  عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات از قلم:                                                                                                                                                                                                                                            ...

دین اسلام کا معاشی تصور 91

  دین اسلام کا معاشی تصور اسلام کوادیان عالم میں یہ خصوصی مقام حاصل ہے کہ یہ الہامی ادیان میں آخری کامل اور جامع دین ہے ۔اس میں دنیاوی اور روحانی اعمال کی تفریق کوختم کر کے معیشت اور اکل حلال کو عبادت کا درجہ دیا گیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اسلام کا نظام معیشت نہایت مضبوط بنیادوں پر استوار ہے یہی وجہ ہے کہ آج سامراجی اور سرمایہ داری نظام لڑکھڑا کر تباہی کے کنارے تک پہنچ چکا ہے اور خصوصا بینکاری عالمی طور پر کنگالی کا شکار ہورہی ہے ،اسلام کے معاشی اصولوں کے تصور پر قائم ادارے نہ صرف مستحکم ہیں بلکہ ان کی مانگ میں گزشتہ بیس سالوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔اگر چہ ان اداروں کے بہت سے امور ایسے ہیں جن میں شرعی اصولوں سے فی الواقع مطابقت کے لئے اصلاح کی ضرورت ہے مگر پھر بھی ان کے اثاثے دیگر اداروں کے مقابلہ میں نہ صرف اضافہ پذیر ہیں بلکہ محفوظ ترین شمار کئے جاتے ہیں ۔ اس عملی تجربہ کے نتیجہ میں یورپ اور امریکہ میں غیر مسلم بھی یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہور ہے ہیں کہ اسلامی معاشی ادارے خواہ وہ بینک ہوں ، تکافل کے دارے ہوں یا صارف کمپنیاں ،سماجی معاشی اداروں سے زیادہ متحکم اور منافع بخش ہیں...

تصوف اور اسلام 69

تصوف اور اسلام از قلم :حافظ معیز احمد                 تصوف مسلمانوں کے ہاں تزکیہ نفس کا ادارہ ہے ، جس کا آغاز دوسری صدی ہجری میں ہوا ۔ تصوف سے مراد  نفس کی اصلاح ، اپنے آپ کو رزائل سے بچانا  اور احسان کی طرف لے کر جانا ہے ۔ تصوف کی  یہ صورت بلکل جائز ہے ، اس میں خرابی والی کوئی بات نہیں  ۔ اس تصوف کو کئی علماء نے اختیار کیا ہے ۔  لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس تصوف میں انتہاء پسندی  بڑھتی گئی ، جس سے یہ تصوف خرافات کی آماجگاہ بن گیا ۔                 تصوف کے پہلے دور میں صوفی کتاب و سنت پہ چلنے والا اور اس کے احکامات کو ماننے والا ہوتا تھا ۔ جیسے جیسے تصوف میں خرافات بڑھی تو صوفی کتاب و سنت سے دور چلتے گئے ، حتی کہ موجودہ دور میں تو تصوف کی اصطلاح ایسے لوگوں پہ لاگو ہونے لگی ہے جنہیں کتاب و سنت کا سرے سے علم ہی نہ ہو۔ جو اپنی خرافات اور بناوٹی کرامات میں گم ہوں ۔ اگر کوئی صوفی کچھ خرافات سے ہٹ عبادت کرنے کی ک...