Skip to main content

مسلم ممالک پر مغرب کے فکری اثرات،67

 

مسلم ممالک پر مغرب کے فکری اثرات

از قلم: بدر عکاشہ



                                                                               انسان اپنی زندگی کسی نہ کسی عقیدہ ، نظریہ حیات اور آئیڈیالوجی کے تحت گزارتا ہے ۔شب و روز کی محنت ، عروج و زوال ، ترقی کی  نت نئی راہیں یہ سب کچھ انسان کو عقیدہ ہی فراہم کرتا ہے ۔ مسلمانوں کے لیے عقیدہ اور نظریہ حیات قرآن اور سنت ہیں ۔ جیسا کہ نبی ﷺ نے حدیث مبارکہ میں ارشاد فرمایا:

تَرَكْتُ فِيكُمْ أَمْرَيْنِ لَنْ تَضِلُّوا مَا تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا: كِتَابَ اللهِ وَسُنَّةَ نَبِيِّهِ

"میں تمہارے درمیان دو چیزوں کو چھوڑ کر جا رہا ہوں ، جب تک انہیں تھامے رکھو گے گمراہ نہیں ہو گے ۔ کتاب اللہ اور اس کے نبی کی سنت"

                                                                               گزشتہ دوسو سال سے مغربی تہذیب بظاہر ترقی کرتی نظر آتی ہے۔ اس تہذیب کی بنیاد الحاد پر ہے ۔مغربی تہذیب نے انفرادی اور اجتماعی سطح ہر دو پہلوؤں سے مسلمانوں کو نقصان پہنچایا ہے ۔ مغربی تہذیب  نے مسلمانوں کو ان کے نظریہ حیات سے دور کر دیا ہے ۔ اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ گزشتہ دو سو سال سے مسلم دنیا انتشار اور خلفشار کا شکار ہے ۔ مسلم حکمران زندگی کے اجتماعی شعبوں میں سیکولرزم کو پسند کرتے ہیں۔ فکری طور پر مسلمان پسماندہ ہیں۔  مصطفی کمال اتاترک جیسا سیکولر حکمران نے خلافت کا خاتمہ کر کے خود کو  مغرب کا آلہ کار ثابت کیا۔

                                                                               مغرب کی فکری یلغار کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ سیکولرزم نے  اسلامی نظام ، اسلامی دینی تحریکوں   اور اسلامی اقدار و روایات کو تہس نہس کر کہ مسلمانوں کی ساکھ کو  بے حد نقصان پہنچایا۔ مسلمان جب اسلام سے دور ہوئے تو نیشنلزم اور پیٹریوٹزم ان کی جڑوں زور پکڑ گیا ۔ جمہوریت مسلم ممالک کی سیاست ٹھہری ۔ مغرب کی فکری چکا چوند کا عالم یہ ہے کہ وہاں سے اٹھنے والے نظریہ ہائے حیات کو معاشی نظاموں کے نام سے قبول کیا جانے لگا ۔

                                                                               مسلم معاشرے اپنی  اقدار و ورایات کو چھوڑ کر  مغربی اقدار و روایات کو اپنانے لگے ۔ مسلمان اسلامی تہذیب کو چھوڑ کر مغربی تہذیب کی نقالی کرنے لگے ۔چنانچہ آزادی اور مساوات  جیسے نعرے  مسلم معاشروں میں پروان چڑھنے لگے ۔ جس کے نتیجے میں کو ایجوکیشن ، بے حیائی ، حرص پسندی  کو فروغ ملا ۔

                اگر صورت حال یہی رہی تو اسلامی معاشرہ "الحادی معاشرہ " میں تبدیل ہو جائے گا ۔شب روز کی بڑھتی ہوئی  دین سے دوری  مسلمانوں کو مغربی تہذیب کا رسیا بناتی جارہی ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلم ممالک میں اسلام بیداری  کو فروغ دیا جائے ، معاشرے میں فکر و عمل کی یکسوئی پیدا کی جائے ۔ الحاد کے پنپنے کے تمام رستوں کو بند کر دیا جائے ۔  معاشرے میں قرآن و سنت کی آبیاری کی جائے ۔ اللہ تعالی ہمیں دین حنیف کی سمجھ عطاء فرمائے۔

Comments

Popular posts from this blog

عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات 94

  عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات از قلم:                                                                                                                                                                                                                                            ...

دین اسلام کا معاشی تصور 91

  دین اسلام کا معاشی تصور اسلام کوادیان عالم میں یہ خصوصی مقام حاصل ہے کہ یہ الہامی ادیان میں آخری کامل اور جامع دین ہے ۔اس میں دنیاوی اور روحانی اعمال کی تفریق کوختم کر کے معیشت اور اکل حلال کو عبادت کا درجہ دیا گیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اسلام کا نظام معیشت نہایت مضبوط بنیادوں پر استوار ہے یہی وجہ ہے کہ آج سامراجی اور سرمایہ داری نظام لڑکھڑا کر تباہی کے کنارے تک پہنچ چکا ہے اور خصوصا بینکاری عالمی طور پر کنگالی کا شکار ہورہی ہے ،اسلام کے معاشی اصولوں کے تصور پر قائم ادارے نہ صرف مستحکم ہیں بلکہ ان کی مانگ میں گزشتہ بیس سالوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔اگر چہ ان اداروں کے بہت سے امور ایسے ہیں جن میں شرعی اصولوں سے فی الواقع مطابقت کے لئے اصلاح کی ضرورت ہے مگر پھر بھی ان کے اثاثے دیگر اداروں کے مقابلہ میں نہ صرف اضافہ پذیر ہیں بلکہ محفوظ ترین شمار کئے جاتے ہیں ۔ اس عملی تجربہ کے نتیجہ میں یورپ اور امریکہ میں غیر مسلم بھی یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہور ہے ہیں کہ اسلامی معاشی ادارے خواہ وہ بینک ہوں ، تکافل کے دارے ہوں یا صارف کمپنیاں ،سماجی معاشی اداروں سے زیادہ متحکم اور منافع بخش ہیں...

تصوف اور اسلام 69

تصوف اور اسلام از قلم :حافظ معیز احمد                 تصوف مسلمانوں کے ہاں تزکیہ نفس کا ادارہ ہے ، جس کا آغاز دوسری صدی ہجری میں ہوا ۔ تصوف سے مراد  نفس کی اصلاح ، اپنے آپ کو رزائل سے بچانا  اور احسان کی طرف لے کر جانا ہے ۔ تصوف کی  یہ صورت بلکل جائز ہے ، اس میں خرابی والی کوئی بات نہیں  ۔ اس تصوف کو کئی علماء نے اختیار کیا ہے ۔  لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس تصوف میں انتہاء پسندی  بڑھتی گئی ، جس سے یہ تصوف خرافات کی آماجگاہ بن گیا ۔                 تصوف کے پہلے دور میں صوفی کتاب و سنت پہ چلنے والا اور اس کے احکامات کو ماننے والا ہوتا تھا ۔ جیسے جیسے تصوف میں خرافات بڑھی تو صوفی کتاب و سنت سے دور چلتے گئے ، حتی کہ موجودہ دور میں تو تصوف کی اصطلاح ایسے لوگوں پہ لاگو ہونے لگی ہے جنہیں کتاب و سنت کا سرے سے علم ہی نہ ہو۔ جو اپنی خرافات اور بناوٹی کرامات میں گم ہوں ۔ اگر کوئی صوفی کچھ خرافات سے ہٹ عبادت کرنے کی ک...