سیاسی اور مذہبی فرقہ واریت کے اثرات
از قلم: سیف الرحمن
فرقہ
واریت جس بھی شکل میں ہو مسلم معاشرے کے لیے زہر قاتل ہے۔ مسلم دنیا کے اتحاد میں
سب سے بڑی رکاوٹ فرقہ واریت ہے۔ فرقہ واریت تعصب، تنگ نظری کو جنم دیتا ہے۔
فرقہ واریت تحقیقی اور تخلیقی صلاحیتوں کو چھین لیتی
ہے۔
اب
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ صرف مذہبی فرقہ واریت اور مسلکی تفریق کا نتیجہ
ہے؟ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم اپنا سارا وقت مذہبی فرقہ واریت پر صرف کر دیتے ہیں
جب کہ حقیقت یہ ہے کہ
جسطرح
مذہبی فرقہ واریت نے مسلمانوں کے زوال میں کلیدی کردار ادا کیا ہے اسی طرح سیاسی
فرقہ واریت نے بھی مسلمانوں کو تباہی کے دھانے پر لا کھڑا کیا ہے۔
اس
بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ مذہبی فرقہ واریت پر تو تنقید کی جاتی ہے لیکن سیاسی
فرقہ واریت کو معاشرے کا حسن قرار دیا جاتا ہے۔
گالی
گلوچ طنز طعنہ تشنیع الزام تراشی اور سیاسی بیانات کو موجودہ سیاست کا حسن قرار دیا
جاتا ہے
اس
سے بھی بڑھ کر افسوس اس بات پر ہے کہ وہ لوگ جو مذہبی فرقہ وارست پر تنقید کرنے میں
ید طولی رکھتے ہیں لیکن جب سیاسی فرقہ واریت کی بات کی جائے تو انکی زبانوں کو
تالے کیوں لگ جاتے ہیں؟
سیاسی
فرقہ واریت پر نقد کرنا تو درکنار وہ لوگ سیاسی فرقہ واریت میں بذات خود شریک ہوتے
ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ جسطرح مذہبی فرقہ واریت کا خاتمہ ضروری ہے اسی طرح سیاسی
فرقہ واریت کا خاتمہ بھی ضروری ہے۔
تاکہ
ہم امت وحدت بن سکیں، تحقیق و تخلیق کو پروان چڑھا سکیں۔ اللہ تعالی ہمیں اسلام
سمجھنے کی توفیق دی۔
Comments
Post a Comment