Skip to main content

سیاسی اور مذہبی فرقہ واریت کے اثرات 59

سیاسی اور مذہبی فرقہ واریت کے اثرات

از قلم: سیف الرحمن



                فرقہ واریت جس بھی شکل میں ہو مسلم معاشرے کے لیے زہر قاتل ہے۔ مسلم دنیا کے اتحاد میں سب سے بڑی رکاوٹ فرقہ واریت ہے۔ فرقہ واریت تعصب، تنگ نظری کو جنم دیتا ہے۔

فرقہ واریت تحقیقی اور تخلیقی صلاحیتوں کو چھین لیتی ہے۔

                اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ صرف مذہبی فرقہ واریت اور مسلکی تفریق کا نتیجہ ہے؟ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم اپنا سارا وقت مذہبی فرقہ واریت پر صرف کر دیتے ہیں جب کہ حقیقت یہ ہے کہ

                جسطرح مذہبی فرقہ واریت نے مسلمانوں کے زوال میں کلیدی کردار ادا کیا ہے اسی طرح سیاسی فرقہ واریت نے بھی مسلمانوں کو تباہی کے دھانے پر لا کھڑا کیا ہے۔

                اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ مذہبی فرقہ واریت پر تو تنقید کی جاتی ہے لیکن سیاسی فرقہ واریت کو معاشرے کا حسن قرار دیا جاتا ہے۔

                گالی گلوچ طنز طعنہ تشنیع الزام تراشی اور سیاسی بیانات کو موجودہ سیاست کا حسن قرار دیا جاتا ہے

                اس سے بھی بڑھ کر افسوس اس بات پر ہے کہ وہ لوگ جو مذہبی فرقہ وارست پر تنقید کرنے میں ید طولی رکھتے ہیں لیکن جب سیاسی فرقہ واریت کی بات کی جائے تو انکی زبانوں کو تالے کیوں لگ جاتے ہیں؟

                سیاسی فرقہ واریت پر نقد کرنا تو درکنار وہ لوگ سیاسی فرقہ واریت میں بذات خود شریک ہوتے ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ جسطرح مذہبی فرقہ واریت کا خاتمہ ضروری ہے اسی طرح سیاسی فرقہ واریت کا خاتمہ بھی ضروری ہے۔

                تاکہ ہم امت وحدت بن سکیں، تحقیق و تخلیق کو پروان چڑھا سکیں۔ اللہ تعالی ہمیں اسلام سمجھنے کی توفیق دی۔

 

 

 

Comments

Popular posts from this blog

عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات 94

  عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات از قلم:                                                                                                                                                                                                                                            ...

دین اسلام کا معاشی تصور 91

  دین اسلام کا معاشی تصور اسلام کوادیان عالم میں یہ خصوصی مقام حاصل ہے کہ یہ الہامی ادیان میں آخری کامل اور جامع دین ہے ۔اس میں دنیاوی اور روحانی اعمال کی تفریق کوختم کر کے معیشت اور اکل حلال کو عبادت کا درجہ دیا گیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اسلام کا نظام معیشت نہایت مضبوط بنیادوں پر استوار ہے یہی وجہ ہے کہ آج سامراجی اور سرمایہ داری نظام لڑکھڑا کر تباہی کے کنارے تک پہنچ چکا ہے اور خصوصا بینکاری عالمی طور پر کنگالی کا شکار ہورہی ہے ،اسلام کے معاشی اصولوں کے تصور پر قائم ادارے نہ صرف مستحکم ہیں بلکہ ان کی مانگ میں گزشتہ بیس سالوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔اگر چہ ان اداروں کے بہت سے امور ایسے ہیں جن میں شرعی اصولوں سے فی الواقع مطابقت کے لئے اصلاح کی ضرورت ہے مگر پھر بھی ان کے اثاثے دیگر اداروں کے مقابلہ میں نہ صرف اضافہ پذیر ہیں بلکہ محفوظ ترین شمار کئے جاتے ہیں ۔ اس عملی تجربہ کے نتیجہ میں یورپ اور امریکہ میں غیر مسلم بھی یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہور ہے ہیں کہ اسلامی معاشی ادارے خواہ وہ بینک ہوں ، تکافل کے دارے ہوں یا صارف کمپنیاں ،سماجی معاشی اداروں سے زیادہ متحکم اور منافع بخش ہیں...

تصوف اور اسلام 69

تصوف اور اسلام از قلم :حافظ معیز احمد                 تصوف مسلمانوں کے ہاں تزکیہ نفس کا ادارہ ہے ، جس کا آغاز دوسری صدی ہجری میں ہوا ۔ تصوف سے مراد  نفس کی اصلاح ، اپنے آپ کو رزائل سے بچانا  اور احسان کی طرف لے کر جانا ہے ۔ تصوف کی  یہ صورت بلکل جائز ہے ، اس میں خرابی والی کوئی بات نہیں  ۔ اس تصوف کو کئی علماء نے اختیار کیا ہے ۔  لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس تصوف میں انتہاء پسندی  بڑھتی گئی ، جس سے یہ تصوف خرافات کی آماجگاہ بن گیا ۔                 تصوف کے پہلے دور میں صوفی کتاب و سنت پہ چلنے والا اور اس کے احکامات کو ماننے والا ہوتا تھا ۔ جیسے جیسے تصوف میں خرافات بڑھی تو صوفی کتاب و سنت سے دور چلتے گئے ، حتی کہ موجودہ دور میں تو تصوف کی اصطلاح ایسے لوگوں پہ لاگو ہونے لگی ہے جنہیں کتاب و سنت کا سرے سے علم ہی نہ ہو۔ جو اپنی خرافات اور بناوٹی کرامات میں گم ہوں ۔ اگر کوئی صوفی کچھ خرافات سے ہٹ عبادت کرنے کی ک...