Skip to main content

اسلام اور مغرب میں تصور حیاء (تقابلی جائزہ)

 

اسلام اور مغرب میں تصور حیاء

(تقابلی جائزہ)

از قلم:    اویس الرحمن



"اَلْحِیَاءُ" طبیعت کا کسی کام سے اس لئے رک جانا کہ اسے کرنے سے مذمت کا یا عیب لگنے کا خطرہ ہو۔ حیاء  صرف انسان کی خصوصیت ہے ورنہ وہ بھی جانوروں کی طرح جو دل میں آتا کر گزرتا۔ شرع میں حیا ایک ایسی عادت کو کہتے ہیں جو آدمی کو قبیح کام سے بچنے اور حق والوں کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی سے بچنے پر آمادہ رکھتی ہے۔  نبی  کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ:

(فَإِنَّ الْحَيَاءَ مِنَ الْإِيمَانِ) متفق علیہ

"بلاشبہ حیا ایمان ہی سے ہے

(الْإِيمَانُ بِضْعٌ وَسِتُّونَ شُعْبَةً ، وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الْإِيمَانِ) البخاری: 9

"ایمان کی ساٹھ سے کچھ اوپر شاخیں ہیں۔ اور حیاء ( شرم ) بھی ایمان کی ایک شاخ ہے۔"

(الْحَيَاءُ لَا يَأْتِي إِلَّا بِخَيْرٍ) المسلم: 156

حیا سے خیر اور بھلائی ہی حاصل ہوتی ہے۔

 اس سے معلوم ہوا کہ جس طرح کلمہ، نماز، روزہ، اللہ کے رسول سے محبت اور دوسری عبادات ایمان کا حصہ ہیں، اسی طرح حیاء بھی ایمان کے درخت کی ایک شاخ اور اس کا حصہ ہے۔

 اللہ تعالی جن چیزوں کو ناپسند کرتا ہے ان سے رکنا حیاء ہے۔ حیاء ایک ایسی چیز ہے جو انسان میں یہ شعور پیدا کرتا ہے کہ انسان صرف اللہ تعالی اور اس کے رسول  کی بات کو مانے ، ان کے دیے ہوئے نظام کو اختیار کرے ، جن باتوں سے انہوں منع کیا ہے ان سے رک جائے، اللہ اور اس کے رسول کے نظریات کے علاوہ کوئی نظریہ اس  کے لیے نظام زندگی نہ بن سکے ۔

 مغرب کے ہاں حیاء کا تصور ہی نہیں۔ اس وجہ سے وہ بے حیائی، فحاشی، عریانی کے کاموں میں آگے ہوتا ہے۔ اپنی جدید مصنوعات کی آڑ میں مسلم معاشرے میں بھی بے  حیائی کو پھیلا رہا ہے۔ جس سے ایک مسلم معاشرے میں بھی حیاء (ایمان کا حصہ اور خیر کے مصدر) کا پہلو ختم ہوتا جا رہا ہے۔ اس کام کے لیے مغرب عورت، شراب اور موسیقی کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔ اگر  ہم نے اس کے لیے آواز نہیں اٹھائی،لکھنا چھوڑ دیا، بولنا بند کر دیا تو کوئی بعید نہیں کہ اس معاشرے میں بھی ایمان اور حیاء جیسی صفات ختم ہو جائیں گی۔اللہ تعالی ہمیں سمجھنے اور عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ ( آمین )

📖الحکمةانٹرنیشنل لاہور پاکستان ،زندگی شعور سے🌍


Comments

Popular posts from this blog

عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات 94

  عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات از قلم:                                                                                                                                                                                                                                            ...

دین اسلام کا معاشی تصور 91

  دین اسلام کا معاشی تصور اسلام کوادیان عالم میں یہ خصوصی مقام حاصل ہے کہ یہ الہامی ادیان میں آخری کامل اور جامع دین ہے ۔اس میں دنیاوی اور روحانی اعمال کی تفریق کوختم کر کے معیشت اور اکل حلال کو عبادت کا درجہ دیا گیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اسلام کا نظام معیشت نہایت مضبوط بنیادوں پر استوار ہے یہی وجہ ہے کہ آج سامراجی اور سرمایہ داری نظام لڑکھڑا کر تباہی کے کنارے تک پہنچ چکا ہے اور خصوصا بینکاری عالمی طور پر کنگالی کا شکار ہورہی ہے ،اسلام کے معاشی اصولوں کے تصور پر قائم ادارے نہ صرف مستحکم ہیں بلکہ ان کی مانگ میں گزشتہ بیس سالوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔اگر چہ ان اداروں کے بہت سے امور ایسے ہیں جن میں شرعی اصولوں سے فی الواقع مطابقت کے لئے اصلاح کی ضرورت ہے مگر پھر بھی ان کے اثاثے دیگر اداروں کے مقابلہ میں نہ صرف اضافہ پذیر ہیں بلکہ محفوظ ترین شمار کئے جاتے ہیں ۔ اس عملی تجربہ کے نتیجہ میں یورپ اور امریکہ میں غیر مسلم بھی یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہور ہے ہیں کہ اسلامی معاشی ادارے خواہ وہ بینک ہوں ، تکافل کے دارے ہوں یا صارف کمپنیاں ،سماجی معاشی اداروں سے زیادہ متحکم اور منافع بخش ہیں...

تصوف اور اسلام 69

تصوف اور اسلام از قلم :حافظ معیز احمد                 تصوف مسلمانوں کے ہاں تزکیہ نفس کا ادارہ ہے ، جس کا آغاز دوسری صدی ہجری میں ہوا ۔ تصوف سے مراد  نفس کی اصلاح ، اپنے آپ کو رزائل سے بچانا  اور احسان کی طرف لے کر جانا ہے ۔ تصوف کی  یہ صورت بلکل جائز ہے ، اس میں خرابی والی کوئی بات نہیں  ۔ اس تصوف کو کئی علماء نے اختیار کیا ہے ۔  لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس تصوف میں انتہاء پسندی  بڑھتی گئی ، جس سے یہ تصوف خرافات کی آماجگاہ بن گیا ۔                 تصوف کے پہلے دور میں صوفی کتاب و سنت پہ چلنے والا اور اس کے احکامات کو ماننے والا ہوتا تھا ۔ جیسے جیسے تصوف میں خرافات بڑھی تو صوفی کتاب و سنت سے دور چلتے گئے ، حتی کہ موجودہ دور میں تو تصوف کی اصطلاح ایسے لوگوں پہ لاگو ہونے لگی ہے جنہیں کتاب و سنت کا سرے سے علم ہی نہ ہو۔ جو اپنی خرافات اور بناوٹی کرامات میں گم ہوں ۔ اگر کوئی صوفی کچھ خرافات سے ہٹ عبادت کرنے کی ک...