Skip to main content

قرآن کا اعجاز 89



 قرآن کا اعجاز

از قلم : سیف الرحمن 




            موجودہ  دور میں انسان کئی نفسیاتی مسائل کا شکار نظر آتا ہے۔ اسی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے انسانوں نے اس کا علاج بھی اپنے اپنے طریقہ سے ایجاد کیا ہے۔ 

            ان میں سے ایک علاج موسیقی اور شاعری کو تصور کیا جاتا ہے۔ یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ کیا موسیقی ان مسائل کا حل ہو سکتی ہے؟؟؟

            میں ذاتی طور پہ انسانوں کے ایجاد کردہ ادب اور اللہ رب العزت کے کلام میں بہت فرق محسوس کرتا ہوں۔ ان فروق میں سے ایک فرق مندرجہ ذیل ہے: 

            یہ بات واضح ہے کہ انسانی مزاج مختلف مراحل سے گزرتا رہتا ہے۔ کبھی انسان اتنا جذباتی اور اپنے آپ کو اتنا طاقتور محسوس کرتا ہے کہ سب کچھ اس کے کنٹرول میں آ جائے۔ اور کبھی انسان اپنے آپ کو ڈپریشن کا شکار سمجھتے ہے 

            اور  غم کی گھاٹیوں سے گزرتا ہوا اپنے آپ کواتنا کمزور سمجھتا ہے کہ اپنے آپ کو اپنے ہی ہاتھوں سے موت کے گھاٹ اتار لیتا ہے۔  

            میں نے اس بات پہ بخوبی غور کیا ہے کہ موجودہ ادب یا شاعری کا مزاج ایسا ہے کہ یا تو انسان غم کی وادیوں میں اترتا جاتا ہے۔ اور مزید مایوسی اس کا مقدر بن جاتی ہے۔ یا دوسری صورت یہ ہے کہ انسان مزید جذباتی اور اتنا طاقتور تصور کرنے لگتا ہے کہ شائد وہ سب سے بڑا ہے اور تمام انسان اس کے آگے زیر ہیں۔ حتی کہ بذات خود بلڈ پریشر جیسی موذی مرض کا شکار ہو جاتا ہے۔ 

            جب کہ اس کے بلمقابل اگر قرآن کو دیکھا جائے تو قرآن کی تلاوت یا فھم انسان کو معتدل اور نارمل کنڈیشن میں رکھنے کے ساتھ ساتھ سوچنے سمجھنے اور تخلیقی و فکری صلاحیتوں کو نکھارنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ اور یہی انسانی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی ہے ۔ 

اللہ ہمیں سمجھنے کی توفیق دے۔

Comments

Popular posts from this blog

عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات 94

  عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات از قلم:                                                                                                                                                                                                                                            ...

دین اسلام کا معاشی تصور 91

  دین اسلام کا معاشی تصور اسلام کوادیان عالم میں یہ خصوصی مقام حاصل ہے کہ یہ الہامی ادیان میں آخری کامل اور جامع دین ہے ۔اس میں دنیاوی اور روحانی اعمال کی تفریق کوختم کر کے معیشت اور اکل حلال کو عبادت کا درجہ دیا گیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اسلام کا نظام معیشت نہایت مضبوط بنیادوں پر استوار ہے یہی وجہ ہے کہ آج سامراجی اور سرمایہ داری نظام لڑکھڑا کر تباہی کے کنارے تک پہنچ چکا ہے اور خصوصا بینکاری عالمی طور پر کنگالی کا شکار ہورہی ہے ،اسلام کے معاشی اصولوں کے تصور پر قائم ادارے نہ صرف مستحکم ہیں بلکہ ان کی مانگ میں گزشتہ بیس سالوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔اگر چہ ان اداروں کے بہت سے امور ایسے ہیں جن میں شرعی اصولوں سے فی الواقع مطابقت کے لئے اصلاح کی ضرورت ہے مگر پھر بھی ان کے اثاثے دیگر اداروں کے مقابلہ میں نہ صرف اضافہ پذیر ہیں بلکہ محفوظ ترین شمار کئے جاتے ہیں ۔ اس عملی تجربہ کے نتیجہ میں یورپ اور امریکہ میں غیر مسلم بھی یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہور ہے ہیں کہ اسلامی معاشی ادارے خواہ وہ بینک ہوں ، تکافل کے دارے ہوں یا صارف کمپنیاں ،سماجی معاشی اداروں سے زیادہ متحکم اور منافع بخش ہیں...

تصوف اور اسلام 69

تصوف اور اسلام از قلم :حافظ معیز احمد                 تصوف مسلمانوں کے ہاں تزکیہ نفس کا ادارہ ہے ، جس کا آغاز دوسری صدی ہجری میں ہوا ۔ تصوف سے مراد  نفس کی اصلاح ، اپنے آپ کو رزائل سے بچانا  اور احسان کی طرف لے کر جانا ہے ۔ تصوف کی  یہ صورت بلکل جائز ہے ، اس میں خرابی والی کوئی بات نہیں  ۔ اس تصوف کو کئی علماء نے اختیار کیا ہے ۔  لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس تصوف میں انتہاء پسندی  بڑھتی گئی ، جس سے یہ تصوف خرافات کی آماجگاہ بن گیا ۔                 تصوف کے پہلے دور میں صوفی کتاب و سنت پہ چلنے والا اور اس کے احکامات کو ماننے والا ہوتا تھا ۔ جیسے جیسے تصوف میں خرافات بڑھی تو صوفی کتاب و سنت سے دور چلتے گئے ، حتی کہ موجودہ دور میں تو تصوف کی اصطلاح ایسے لوگوں پہ لاگو ہونے لگی ہے جنہیں کتاب و سنت کا سرے سے علم ہی نہ ہو۔ جو اپنی خرافات اور بناوٹی کرامات میں گم ہوں ۔ اگر کوئی صوفی کچھ خرافات سے ہٹ عبادت کرنے کی ک...