Skip to main content

رہبانیت اسلام کے آئینے میں 90


رہبانیت اسلام کے آئینے میں


از قلم: محمد اسلم ریسرچ سکالر الحکمۃ انٹر نیشنل لاہور



اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو زندگی کے تمام شعبوں میں انسان کی راہنمائی کرتا ہے ۔ایک مکمل ضابطہ حیات ہونے کے ناطے اسلام انسانیت کو چند عبادات یا معاملات تک محدود نہیں کرتا بلکہ ترقی اور کامیابی کی نئی نئی راہیں انسان کو دکھاتا ہے اور ان کی سر پرستی کرتا ہے ۔رہبانیت عیسائیت کا ایجاد کردہ طریقہ کار ہے ، رہبانیت کا حکم اللہ تعالی کی طرف سے نہیں تھا بلکہ عیسائیوں نے خود اسے اپنے اوپر لازم کر لیا تھا ۔ اللہ تعالی نے فرمایا:

وَرَهْبَانِيَّةَ ابْتَدَعُوْهَا مَا كَتَبْنٰهَا عَلَيْهِمْ (الحدید : 27)

 "اور ترک دنیا  جو انھوں نے خود ایجاد کرلی تھی۔"

عیسائیت کے اندر رہبانیت کی اساس اس پختہ یقین پر ہے جو انہوں نے ابو البشر آدم کی طرف سے کی جانے والی غیر ارادی غلطی پر کیا ہے ۔ جس نے ان کو جنت سے نکالوا دیاتھا ۔ یہ واقعہ نصاری کے ہاں معتبر قدیم عہد ناموں میں سےایک عہد نامہ ''کائنات کا سفر '' میں لکھا ہو ا ہے اور نصاری یہ سمجھتے تھے کہ آدم کے بیٹے او ر ان کے پوتے اس غلطی کے وارث بنے اوروہ نسل در نسل اس غلطی کے وارث بنتے رہے یہاں تک کہ نصاری کے مطابق عیسی آئےاور انہوں نے اس غلطی کے ازالے کے لیے اپنے آپ کو صلیب پر لٹکا کر جان دے دی تاکہ کائنات کو اس غلطی سے چھٹکارا حاصل ہو جائے۔ ان کے بقول حضرت عیسی نے جسم کو کمزور کروایا اور لوگوں کو اس بات کی اجازت دی کہ وہ انکو ماریں ان کا مزاق اڑائیں او ر ان کو قتل کر دیں ۔ یہ دلیل ہی ان کے لیے کافی ہے کہ جسم کو عذاب دینا واجب ہے اور اسی وجہ سے ہم ان کو دیکھتے ہیں کہ وہ جسم کو سزا او ر کمزور کرنے کے لیے زھد اور رہبانیت کو اختیار کرتے ہیں۔ اس قصےکی اصل قرآن کریم میں معروف طور پر ذکر ہے کہ آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور حرام کردہ درخت سے پھل کھایا اور غلطی کر بیٹھے۔ لیکن سید نا آدم نے توبہ کی اور اللہ تعالی کی طرف رجوع کیا او ر اللہ تعالی نے انکو معاف کر دیا۔ جس طرح قرآن مجید میں آیا ہے

وَعَصَىٰ آدَمُ رَبَّهُ فَغَوَىٰ ثُمَّ اجْتَبَاهُ رَبُّهُ فَتَابَ عَلَيْهِ وَهَدَىٰ (طہ: 121 تا 122)

"اور آدم نے اپنے پروردگار کی نافرمانی کی لہٰذا وہ بھٹک گئے۔ پھر ان کے پروردگار نے انھیں برگزیدہ کیا، ان کی توبہ قبول کی اور ہدایت بخشی۔"

آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور راہِ راست سے بھٹک گیاپھر اُس کے رب نے اُسے برگزیدہ کیا اور اس کی توبہ قبول کر لی اور اسے ہدایت بخشی۔ اور اسی طرح اللہ تعالی نے فرمایا:

فَتَلَقَّى آدَمُ مِنْ رَبِّهِ كَلِمَاتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ

"پھر آدم (علیہ السلام) نے اپنے رب سے چند کلمات  سیکھ کر توبہ کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کرلی۔ بلاشبہ وہ بندوں کی توبہ قبول کرنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے۔" ( البقرۃ : 37)

            اس واقعہ کی اصل  سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالی نے آدم علیہ السلام کو معاف کر دیا تھا ۔ عیسی علیہ السلام کی سولی سے اس گناہ کی معافی کو جوڑنا اور اس سے تصوف ثابت کرنا ، سطحی سوچ کی عکاسی کرتا ہے ۔اسلام رہبانیت کی تمام صورتوں کی نفی کرتے ہوئے مکمل وسائل و اسباب کے ساتھ آزادانہ زندگی گزرنے کی تلقین کرتا ہے ۔رہبانیت کی نفی کرتے ہوئےنبی ﷺ نے فرمایا:

                                                لَا رَهْبَانِيَّةَ فِي الإِسْلامِ

            "اسلام میں رہبانیت نہیں ہے " ( شرح السنۃ للبغوی: 371/2)

اسلام نہ تو مادہ پرستی کا قائل ہے اور نہ ہی رہبانیت کو پروان چڑہاتا ہے بلکہ اسلام مادیت اور رہبانیت کا حسن امتزاج ہے ۔ چنانچہ اللہ تعالی نے ہمیں بہت ہی بہترین اورجامع دعا سکھائی ہے :

            رَبَّنَآ اٰتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَّفِي الْاٰخِرَةِ حَسَـنَةً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ  ( البقرۃ:201)

            '' اے ہمارے پروردگار ! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی۔ اور ہمیں  دوزخ کے عذاب سے بچا لے۔ ''


Comments

Popular posts from this blog

عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات 94

  عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات از قلم:                                                                                                                                                                                                                                            ...

دین اسلام کا معاشی تصور 91

  دین اسلام کا معاشی تصور اسلام کوادیان عالم میں یہ خصوصی مقام حاصل ہے کہ یہ الہامی ادیان میں آخری کامل اور جامع دین ہے ۔اس میں دنیاوی اور روحانی اعمال کی تفریق کوختم کر کے معیشت اور اکل حلال کو عبادت کا درجہ دیا گیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اسلام کا نظام معیشت نہایت مضبوط بنیادوں پر استوار ہے یہی وجہ ہے کہ آج سامراجی اور سرمایہ داری نظام لڑکھڑا کر تباہی کے کنارے تک پہنچ چکا ہے اور خصوصا بینکاری عالمی طور پر کنگالی کا شکار ہورہی ہے ،اسلام کے معاشی اصولوں کے تصور پر قائم ادارے نہ صرف مستحکم ہیں بلکہ ان کی مانگ میں گزشتہ بیس سالوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔اگر چہ ان اداروں کے بہت سے امور ایسے ہیں جن میں شرعی اصولوں سے فی الواقع مطابقت کے لئے اصلاح کی ضرورت ہے مگر پھر بھی ان کے اثاثے دیگر اداروں کے مقابلہ میں نہ صرف اضافہ پذیر ہیں بلکہ محفوظ ترین شمار کئے جاتے ہیں ۔ اس عملی تجربہ کے نتیجہ میں یورپ اور امریکہ میں غیر مسلم بھی یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہور ہے ہیں کہ اسلامی معاشی ادارے خواہ وہ بینک ہوں ، تکافل کے دارے ہوں یا صارف کمپنیاں ،سماجی معاشی اداروں سے زیادہ متحکم اور منافع بخش ہیں...

تصوف اور اسلام 69

تصوف اور اسلام از قلم :حافظ معیز احمد                 تصوف مسلمانوں کے ہاں تزکیہ نفس کا ادارہ ہے ، جس کا آغاز دوسری صدی ہجری میں ہوا ۔ تصوف سے مراد  نفس کی اصلاح ، اپنے آپ کو رزائل سے بچانا  اور احسان کی طرف لے کر جانا ہے ۔ تصوف کی  یہ صورت بلکل جائز ہے ، اس میں خرابی والی کوئی بات نہیں  ۔ اس تصوف کو کئی علماء نے اختیار کیا ہے ۔  لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس تصوف میں انتہاء پسندی  بڑھتی گئی ، جس سے یہ تصوف خرافات کی آماجگاہ بن گیا ۔                 تصوف کے پہلے دور میں صوفی کتاب و سنت پہ چلنے والا اور اس کے احکامات کو ماننے والا ہوتا تھا ۔ جیسے جیسے تصوف میں خرافات بڑھی تو صوفی کتاب و سنت سے دور چلتے گئے ، حتی کہ موجودہ دور میں تو تصوف کی اصطلاح ایسے لوگوں پہ لاگو ہونے لگی ہے جنہیں کتاب و سنت کا سرے سے علم ہی نہ ہو۔ جو اپنی خرافات اور بناوٹی کرامات میں گم ہوں ۔ اگر کوئی صوفی کچھ خرافات سے ہٹ عبادت کرنے کی ک...