اسلام کا تصور ملت اور مروجہ قومی عصبیت وَاعْتَصِمُواْ بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلاَ تَفَرَّقُواْ وَاذْكُرُواْ نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنتُمْ أَعْدَاء فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا وَكُنتُمْ عَلَىَ شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَأَنقَذَكُم مِّنْهَا كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ (آل عمران : 103) اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی (اقبال) دنیا میں قومیت کی تشکیل کے دو تصورات ہیں ۔ 1️ ⃣ : ایک تصور جو مغرب نے پیش کیا ہے جو نسل ، رنگ و بو ، قومیت ، وطنیت اور اس طرح کے دیگر تصوارت پر قائم ہے 2️ ⃣ : ایک نظریہ ملت وہ ہے جو اسلام نے ہمارے سامنے پیش کیا ہے ، جو زبان ، رنگ ونسل اور اس طرح کے دیگر امتیازات سے بالاتر ہے اس...