Skip to main content

Posts

Showing posts from November, 2021

کیا مسلمان اسلام کی وجہ سے پسماندہ ہیں؟

کیا مسلمان  اسلام کی وجہ سے پسماندہ ہیں؟ اس وقت دنیا میں سب سے پسماندہ لوگ مسلمان ہیں۔  ان کی زندگی کا ہر شعبہ زبوں حالی کا شکار ہے۔ سیاست، معیشت، معاشرت، سائنس اور ٹیکنالوجی سمیت  ہر چیز ابتری میں ہے۔ غربت، افلاس، جہالت  اور عزت نفس کے فقدان  جیسے موذی امراض  نے   مسلمانوں کا احاطہ کیا ہوا ہے۔ عام طورپر اس کا الزام اسلام کے سرتھونپ دیا جاتا ہے۔ اور یہ کہا جاتا ہے کہ اگر مسلمان اسلامی نظریہ  ( Islamic Ideology ) کو خیرباد کہہ دیں تو ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہوسکتے ہیں۔ ذیل میں اسی حوالے سے چند ابتدائی شبہات کا جائزہ لیا جاتا ہے : 1 ۔ یہ تاریخی حقیقت ہے کہ  اسلام  نے ایک مختصر وقت میں بڑی زبردست تہذیب کو جنم دیا۔ جس نے دنیا میں رائج تہذیبوں میں سب سے زیادہ عمر پائی۔ علوم وفنون، لائبریریاں اور تاریخی آثار میں اس بات کی شہادتیں آج بھی موجود ہیں۔ اندلس تو  یورپ کا اپنا ہی ایک حصہ ہے۔ وہاں یہ سب نشانات مٹانے کے باوجود  اب بھی  اپنی آب و تاب کے ساتھ قائم ہیں۔  بارویں اور تیرویں صدی میں علوم  عربیہ کے ترجموں کی...

’سلفی‘ کی پہچان اور مفہوم

  ’سلفی‘   کی پہچان اور مفہوم فہم شرع کا ضابطہ:                 یہ بات تو بلاشبہ مبنی برحقیقت ہےکہ   دین اسلام کے بنیادی ترین مصادر قرآن و حدیث ہی ہیں۔ وہ سب کچھ اسلام ہے جو ان میں موجود ہے۔ اور جو چیز ان میں موجود نہیں وہ اسلام نہیں۔   باقی جتنے بھی مصادر شریعت ہیں جیسے   اجماع   و قیاس وغیرہ ہیں یہ سب ان کے ماتحت ہیں۔ کسی انسان کو اگر کسی بھی معاملہ میں   شرعی تعلیمات سے برارہ راست آگاہی مطلوب ہو تو ان کی طرف مراجعت کرے۔   ان میں جو کچھ اسے ملے گا وہ حقیقی اسلام ہوگا۔ قرآن و سنت   اور اسلام کے حوالے سے   یہ ایک عام معاشرتی سوچ ہے۔ امت مسلمہ کی ایک کثیر جماعت اس پر یقین رکھتی ہے۔ لیکن کیا ایک شخص جو اسلام سے رہنمائی چاہتا ہے۔   وہ قرآن کی کوئی آیت یا حدیث کی کوئی عبارت   جس سے اسے متعلقہ مسئلہ کے بارے میں رہنمائی ملتی ہو اسے اپنے فہم کے مطابق سمجھ   کر شریعت کے صحیح فہم کا دعویٰ کرسکتا ہے؟ کیا وہ کہہ سکتا ہے کہ چونکہ اس مسئلہ میں مجھے قرآن ...

اذکار سے بھر پور فوائد کیسےحاصل کیے جائیں؟ فقہ الاذکار سیریز قسط نمبر 1

  فقہ الاذکار اذکار سے بھر پور فوائد کیسےحاصل  کیے جائیں؟  قاری شفیق الرحمان زاہد حفظہ اللہ  يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا اللَّهَ ذِكْرًا كَثِيرًا (41) وَسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَأَصِيلًا [1] إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ (190) الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (191)           [2] ناظرین آج سے ہم فقہ الاذکار کا ایک سلسلہ شروع کرنے جا رہے ہیں ۔ اللہ کا ذکر کرنا بہت اہمیت کا حامل عمل ہے ۔ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں کثرت سے ذکر کرنے کا کہا ہے ۔ آپ قرآن مجید میں اللہ کی اس آیت پہ غور کریں تو کثرت سے ذکر کرنے کا کہا گیا ہے ۔             يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا اللَّهَ ذِكْرًا كَثِيرًا [3]  ...

ہمارے معاشرتی اور اخلاقی رویے;

  :ہمارے معاشرتی اور اخلاقی رویے      :  از قلم   (استاذ عبد الحنان کیلانی)     جب انسان کسی شخصیت, گروہ اور جماعت کو حق کا معیار بنالے تو اسے تعصب کہتے ہیں۔            ی           ی ہ ایک ایسا جذبہ ہے جب انسان اس کا شکار ہو جائے تو وہ حق اور حقیقت دیکھنے کی صلاحیت سے محروم ہو جاتا ہے۔ ہمارا     رویہ یہ ہے کہ ہم اپنی پارٹی, جماعت اور مسلک کو ہی بس حق اور سچ سمجھتے ہیں۔  مذہبی, سیاسی اور سیکولر سمیت کوئی طبقہ اس سے مستثنی نہیں۔  ا             ا س کے برعکس اسلام اسے جاہلانہ رویہ قرار دیتا ہے ۔ اہل عرب کی سوچ تھی کہ ہرحال میں اپنے قبیلے کی مدد کرنی چاہیے۔ اسلام نے کہا بس اس وقت معاونت کرو جب وہ مظلوم ہوں۔ لیکن جب ظالم ہو تو انہیں ظلم سے روکو۔ قرآن متقین کے لیے ہدات ہے۔ یعنی جو بغیر کسی تعصب کے اسے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ان کے لیے ہدایت ہے۔ ہ             ہ میں ہر حال میں حق اور سچ ک...

تعصب اور انتہا پسندی

   تعصب اور انتہا پسندی ہ               ہ رانسان کا یہ حق ہے کہ وہ دلائل کی بنیاد پر اپنی سوچ اور نظریہ کو درست سمجھے۔ اور دلائل کی بنیاد پر دوسرے کے نظریات سے اتفاق نہ کرے۔ اور اگر کوئی انسان اپنے نظریات کو بغیر کسی معقول دلیل کے درست سمجھتا ہے۔ تو یہ تعصب ہے۔ یعنی اپنی پارٹی, جماعت, مسلک, مفادات, برادری یا کسی شخصیت کی وجہ سے کسی رائے کو درست تسلیم کرنا تعصب ہے۔ اور جب یہ تعصب عملی تشدد کا راستہ اختیار کر جائے تو یہ انتہا پسندی ہے۔  انتہا پسندی کا تعلق کسی مذہب سے نہیں بلکہ اس کی جڑیں انسانی نفسیات میں ہیں۔ یہ ایک مخصوص رویے کا نام ہے, جو عدم برداشت سے پیدا ہوتا ہے, جس میں انسان اپنے نظریات سے مخالفت کرنے والے سے  اتنی نفرت کرتا ہے کہ اسے مار دینا چاہتا ہے۔  اسلام انتہا پسندی سے سختی سے روکتا ہے۔  کافروں کے معبودوں کو گالی نہ دو۔ ذمیوں سے حسن سلوک سے پیش آنے کی تلقین۔ اسلامی ریاست میں تمام طبقات کو مذہبی آذادی اور حکمت و دنائی کو مومن کی گمشدہ میراث قرار دینا وغیرہ, یہ سب اسلام کی انتہا پسندی کے منافی تعلیمات ہیں۔حت...

سیکولرزم اور اسلام:

 : سیکولرزم اور اسلام سیکولرزم انسانی زندگی کو انفرادی اور اجتماعی دو پہلووں سے دیکھتا ہے۔ جوامور انسان اپنی ذاتی حیثیت سے سرانجام دے, ان میں کوئی دوسرا شریک نہ ہو انہیں نجی اور انفرادی معاملات قرار دیتا ہے۔جیسے عقائد اور عبادات ہیں۔ اور جو امور وہ دوسرں کی شراکت سے سرانجام دیتا ہے انہیں اجتماعی معاملات کہا جاتا ہے۔ جیسے سیاست, معیشت اور معاشرت ہے۔  سیکولرزم کہتا ہے حکومت کا صرف اجتماعی امور سے سروکار ہونا چاہیے۔ انفرادی امور انسان کا ذاتی معاملہ ہے۔ ان میں ریاست دخل نہ دے۔البتہ اجتماعی امور کی باگ دوڑ حکومت کے ہاتھ ہونی چاہیے۔ اسلام انسانی زندگی کو حقوق اللہ اور حقوق العباد کے پہلو سے دیکھتا ہے ۔ جس کام سے شخصی فائدہ ہو اسے حقوق العباد میں شمار کیا جاتا ہے جیسے تجارتی معاہدات ہیں۔ اور جن امور میں معاشرے کا فائدہ ہو انہیں حقوق اللہ کہا جاتا ہے۔ جیسے عبادات, حدود,زکاۃ, صدقہ, عشر, خراج, کفارات اور مال غنیمت سے خمس ہیں۔ گویا یہاں بنیادیں الگ ہیں مثلا     : 1    عبادات اور اجتماعی معاشی امور جیسے صدقہ و زکاۃ وغیرہ ہیں  سیکولرزم میں شخصی معاملہ ہے جبکہ اسل...

1 ''قانون وضعی اور قانون تشریعی میں فرق'' .3 Part

''قانون وضعی اور قانون تشریعی میں فرق''  قسط نمبر: 3 (آخری قسط)   ازقلم: سیف الر حمان    : 5 قانون وضعی اور تشریعی میں آخری فرق سزاؤں کا فرق ہے   جو کہ اس بات پہ منحصر ہے کہ وضعی قانون سزاؤں میں یا تو بلکل ہی نا کافی ہے اور اگر سزا دیتا بھی ہے تو اس کی بنیاد تشدّد پر ہے ۔ جسکی وجہ سے انسان وقتی طور پہ تو گناہ چھوڑ دہتا ہے لیکن اسکی ذات میں اسکی حرص باقی رہتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں انسان مزید ضدی اور جرائم پر اسرار کرنے والا بن جاتا ہے کیوں کہ اس نظام میں تشدّد کے ذریعے جرم روکنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جب کہ دوسری طرف قانون تشریعی میں تشدّد سےذیادہ اصلاح پر زور دیا جاتا ہے اگرچہ سزائیں سخت بھی ہوں۔ اس نظام میں جرائم کی روک تھام کے لیے پولیس حکومت یا دیگر اداروں کا ڈر انسان کے ذہن میں نہیں بٹھایا جاتا بلکہ افراد کی تربیت ایسے زاویوں پہ کی جاتی ہے کہ انسان برائی کو چھوڑ کر نیکی کی طرف لپکتا ہے ،  ایک ایسی ذات پہ ایمان پختہ کرنے پہ زور دیا جاتا ہے جو ہر پل اور ہر وقت اسے دیکھتی ہے۔انسان کی چھوٹی سے چھوٹی حرکت بھی اس سے پوشیدہ نہیں ہے۔ جب اللہ کی ذات پر انسان کا یق...

''قانون وضعی اور تشریعی میں فرق'' Part 2 .1

''قانون وضعی اور تشریعی میں فرق'' قسط نمبر :2 از قلم : سیف الر حمان : 3  قانون وضعی کا موجد انسان ہے ،جسکی وجہ سے قانون وضعی کی بنیاد عقل پر ہے۔عقلوں میں تفاوت برحق ہے تو پھر عقل کوق کسی نظام کی بنیاد کیسے ٹھرایا جا سکتا ہے ؟ دنیا میں بسنے والے تقریبا چھ ارب انسان ہیں ان سب کی عقل ااور سوچنے کا انداز ایک دوسرے سے مختلف ہے تو پھر ایک انسان کی عقل کا بنایا ہوا قانون دوسرے انسان کے لیے کسطرح نجات دہندہ ہو سکتا ہے ؟صرف اتنے انسانوں میں سے ایک یا چند انسانوں کو کس بنیاد پر قانون سازی کا اختیار دیا گیا ہے؟؟؟ جب کہ دوسری طرف قانون کی بنیاد وحی ہے جس میں انساں کا اپنی طاقت کا کوئی اختیار نہیں ہوتا وہ ذات انسان کے مزاج اور مجبوریوں کو سمجھتے ہوے ایسا قانون پیش کرتی ہے جس میں کسی انسان پر ظلم نہیں ہوتا اور وہ ذات انسان کی طاقت سے زیادہ اس پر بوجھ نہیں ڈالتی۔ فرد اور معاشرے کے مصالح اور فوائد تشریعی قانون میں میں موجود ہوتے ہیں ۔ جب اللہ نے بندوں کے تمام مصالح اپنےقانون میں رکھ دیئے ہیں  تو کیا ضرورت ہے کہ انسان دوسرے انسانوں کے قانون کو اپنے لیے نظریہ حیات کے طور پہ اختیار کرے ۔...

"قانون وضعی اور قانون تشریعی میں فرق" 1

  "قانون وضعی اور قانون تشریعی میں فرق" "قانون وضعی اور قانون تشریعی میں فرق" از قلم: سیف الر حمان  قسط نمبر: 1  Defination : قانون وضعی    قانون وضعی سے مراد ایسے قوانین ہیں جو نظام زندگی کو چلانے کے لیے انسانوں نے بذات خود بنائے ہیںـ جیسا کہ سیکولرزم ،کیمونزم اورکیپٹلزم وغیرہ    Defination : قانون تشریعی قانون تشریعی سے مراد وہ قوانین ہیں جو نظام زندگی کو چلانے کے لیے اللہ رب العزت نے اپنے رسولوں کے ذریعے اپنے بندوں تک بھیجے ہیں جن کی بنیاد وحی پر ہےـ موجودہ دور میں دونوں طرز ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ باہم شدید متنازع کا شکار ہیں کہ موجودہ دور میں کس طرز ہائے فکر کو نظام زندگی کے طور پر اپنایا جائےـ ذیل میں میں دونوں نظاموں کے درمیان چند ایک فروق واضح کروں گا جن سے قارئیں کو دونوں میں درست نظام تک پہنچنے میں مدد ملے گی  قانون وضعی اور قانون تشریعی کا مطالعہ کیا جائے تو دونوں کے درمیان چند ایک فروق ہمیں واضح طور پر دیکھنے کو ملتے   ہیں : جو کہ درج ذیل ہیں :1   قانون وضعی کو تشکیل دینے والے انسان ہیں ۔ انسان مخلوق ہیں جو کہ ب...